سعودی عرب حج کے امور کو مثالی نظم و ضبط کے ساتھ چلاتا ہے:سابق ایرانی عہدیدار

حجاج کی خدمت خادمِ حرمین شریفین کی اعلیٰ اقدار کا عکس ہے:محمد رضا نوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب میں تعینات سابق ایرانی سفیر اور ایران-سعودیہ فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد رضا نوری نے کہا ہے کہ سعودی عرب سالانہ بنیادوں پر جس انداز میں حجاج کرام کو سہولیات فراہم کرتا ہے، شہری ترقی کے منصوبے مکمل کرتا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بناتا ہے، وہ اس کی ہمہ جہت ترقی کے عزم کی واضح علامت ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب حج کے انتظامات کو نہایت منظم، باوقار اور مثالی انداز میں چلاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد رضا نوری نے کہا کہ ایرانی حجاج کے نظم و ضبط نے ایک منفی تاثر کو ختم کیا ہے جو برسوں سے ان سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ اس رویے میں بہتری اور باہمی مفاہمتیں 2023ء میں بیجنگ معاہدے کے بعد سامنے آئیں، جو ریاض اور تہران کے درمیان طے پایا تھا۔

سعودی عرب واپسی خوشی اور عزت کا باعث بنی

سابق ایرانی سفیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں دوبارہ آنا ان کے لیے خوشی اور عزت کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور سفیر اور حج کے مستقل شرکاء میں شامل ہونے کے ناطے وہ سعودی عرب کی ترقی کا مسلسل مشاہدہ کرتے رہے ہیں بالخصوص حجاج کی خدمت، شہری منصوبوں اور جدید انفرا اسٹرکچر میں جو سال بہ سال بہتری آ رہی ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔

انتظامات مثالی اور سہولیات بے مثال

محمد رضا نوری نے سعودی حکومت کے حج انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ہر سال بڑے نظم اور باوقار ماحول میں انجام دی جاتی ہے۔ انہوں نے جدہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو جوڑنے والی تیز رفتار ٹرین، صحت سہولیات میں بہتری، اسمارٹ ٹیکنالوجی کے استعمال اور رمی جمرات کے منظم انتظام کو نمایاں مثالوں کے طور پر پیش کیا۔

ایرانی حجاج کا نظم اور سعودی خدمات کا خلوص

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی میں ایرانی حجاج کے حوالے سے جو خدشات موجود تھے، حالیہ برسوں میں ان کے نظم و ضبط نے انہیں دور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی انتظامیہ کا بردبار اور بھائی چارے پر مبنی رویہ اسلامی تعاون کی روشن مثال ہے۔

نوری کے مطابق، انفرادی غلطیوں یا غیر ذمہ دار بیانات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ دانشمندانہ سیاسی طرزِ عمل یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایسے معاملات کو اصل تناظر میں دیکھا جائے تاکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو نقصان نہ پہنچے اور حج جیسی عظیم عبادت کا تقدس قائم رہے۔

بیجنگ معاہدہ: تعلقات کی نئی راہ

بیجنگ معاہدے کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مارچ 2023ء میں ہونے والا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور تعاون کی توسیع کی بنیاد بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو طرفہ دوروں، سفارتی روابط کی بحالی، اور عوامی سطح پر دوستی کی تنظیموں کی سرگرمیاں ایک مثبت سفر کی عکاسی کرتی ہیں۔

روشن مستقبل کی امید

انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے مستقبل کو انتہائی روشن قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے پاس باہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ثقافتی، اقتصادی، مذہبی زیارات اور بین الاقوامی معاملات میں شراکت داری کے امکانات خوش آئند ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سعودی عرب میں خدمات اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ہونے والی ترقی مستقبل میں باہمی تعاون کے مزید دروازے کھول سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں