غزہ مذاکرات میں "بڑی پیش رفت" ہوئی ہے : اسرائیلی میڈیا کا اعلان

"یدیعوت آحرونوت" اخبار نے بعض نا معلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ "ایک بڑی پیش رفت کے امکانات کے بارے میں نہایت مثبت علامات موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی کوششوں میں "بڑی پیش رفت" ہوئی ہے۔

عبرانی اخبار "یدیعوت آحرونوت" نے آج منگل کے روز بعض علاقائی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں جنگ بندی کی سمت "بہت بڑی پیش رفت" ہوئی ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ "دونوں فریق لچک دار ہو چکے ہیں، لیکن وہ ایران میں جاری کشیدگی کے اثرات سے خائف ہیں۔ اسرائیلی مذاکراتی وفد اب تک دوحہ روانہ نہیں ہوا کیوں کہ خدشہ ہے کہ اس سے رابطے تیز ہونے کے بجائے سست ہو سکتے ہیں۔"

اخبار کے مطابق، بعض نا معلوم امریکی حکام نے غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ "ایک بڑی پیش رفت کی بہت مثبت علامات موجود ہیں۔" اسی تناظر میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں اشارہ دیا ہے کہ انھوں نے "ایسا وقت متعین کیا ہے جس میں پیش رفت ممکن ہے۔"

تاہم اخبار نے ایک غیر اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے لکھا کہ معاملہ اس سے کہیں وسیع تر ہے اور اصل گفتگو جنگ کے خاتمے کے بارے میں ہو رہی ہے، نہ صرف ابتدائی مرحلے کے متعلق جس میں 8 سے 10 زندہ یرغمالیوں کی رہائی شامل ہو گی۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے مطابق غزہ میں 54 اسرائیلی قیدی موجود ہیں جن میں سے 20 زندہ ہیں۔

اخبار کے مطابق، اس ہفتے کے آغاز میں امریکی ذرائع نے بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے "مثبت پیش رفت" کا ذکر کیا تھا۔

اخبار نے مزید لکھا کہ ان بیرونی اشاروں کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے اتوار کو کہا تھا کہ انھوں نے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

تاہم قیدیوں کے اہل خانہ نے نیتن یاہو کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ خاندان بار بار وعدوں اور بیانات سے مایوس ہو رہے ہیں جن کے پیچھے کوئی عملی اقدام یا نتیجہ موجود نہیں ہوتا۔"

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس کا پہلا مرحلہ مارچ کے آغاز میں مکمل ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں