اسرائیل اور ایران کے درمیان ٹاکرا جاری ... غزہ کے محاذ پر کیا چل رہا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران اور اسرائیل کے درمیان جمعے کی صبح سے جاری محاذ آرائی کے دوران، اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی افواج کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افواج کی جزوی منتقلی

اسرائیلی عسکری حکام نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کے محاذ سے کچھ افواج کو شمالی اور مشرقی سرحدوں کی حفاظت کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار "ہآرتز" نے بتائی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں غزہ میں ان فوجیوں کی تعداد نصف سے بھی کم رہ جائے گی جو ایران سے جھڑپوں سے قبل وہاں تعینات تھے۔

حکام نے مزید بتایا کہ یہ اقدام اس خدشے کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے علاقائی حلیف گروہ اس تنازع میں ایران کی مدد کے لیے سرگرم ہو سکتے ہیں۔ اس کا فوری مقصد اسرائیلی سرحدی علاقوں اور عسکری تنصیبات پر کسی بھی ممکنہ حملے کی روک تھام ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اسرائیل کو ایران کی حمایت یافتہ جماعتوں کی جانب سے دراندازی کے خطرے کا سامنا ہے، خاص طور پر یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لبنانی حزب اللہ بھی اس جنگ میں شامل ہو سکتی ہے۔

ثانوی محاذ

اسرائیلی فوج پہلے ہی اردن اور شام کی سرحد سے ملحقہ آبادیوں میں اپنی فورسز کو مضبوط کر چکی ہے تاکہ کسی بھی دراندازی کی کوشش کو روکا جا سکے۔ فوج نے ہفتے کے روز یہ بیان دیا تھا کہ اب ایران اسرائیل کے لیے "مرکزی جنگی محاذ" بن چکا ہے، جب کہ غزہ ایک "ثانوی محاذ" کی حیثیت رکھتا ہے۔

عراق، شام اور یمن میں سرگرم ایران نواز گروہ بھی اسرائیل کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں۔ اسی دوران حزب اللہ نے ایران کے لیے زبانی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی اور اسے ایک "خطرناک اشتعال انگیزی" قرار دیا گیا۔ حزب اللہ کے مطابق اسرائیل نے تمام "سرخ لکیریں" عبور کر لی ہیں۔

واضح رہے کہ جمعے کے روز اسرائیل نے ایران کے اندر متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے تھے جن میں جوہری تنصیبات، فوجی اڈے، میزائل ذخائر، فضائی دفاعی نظام، اور متعدد سینیئر فوجی افسران اور جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد سے دونوں ممالک براہِ راست جنگ میں ملوث ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں