غزہ کی پٹی: گزشتہ روز 100 فلسطینیوں کی اموات، ان میں 70 امدادی مرکز کے قریب جان سے گئے
فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے مطابق امداد کی تقسیم کا طریقہ کار غزہ میں لاکھوں بھوکے افراد کے لیے جان لیوا خطرہ بن چکا ہے
فلسطینی اراضی میں Palestinian NGO’s Network (PNGO) نے خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی میں امریکی امداد کی تقسیم کا طریقہ کار اُن لاکھوں افراد کی زندگیوں کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکا ہے جو بھوک کا شکار ہیں، خاص طور پر جب کہ امدادی مراکز پر عام شہریوں کو "منظم طور پر نشانہ" بنایا جا رہا ہے۔
نیٹ ورک کی جانب سے منگل کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ خان یونس شہر میں پیش آنے والا خونی واقعہ اس امر کا ثبوت ہے، جہاں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے امریکی تنظیم "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن" کے زیرِ انتظام امدادی مرکز کے قریب درجنوں افراد قتل ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ مرکز اب شہریوں کے قتل میں قابض قوت کا شریک بن چکا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ امدادی مراکز، جنھیں "فوجی نوعیت کے" مقامات قرار دیا گیا، شروع دن سے ہی اُن شہریوں کے لیے مہلک خطرہ بنے ہوئے ہیں جو تھوڑی سی خوراک کے لیے یہاں آنے پر مجبور ہیں، جب کہ انسانی بحران دن بہ دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
نیٹ ورک نے موجودہ امدادی طریقہ کار پر الزام لگایا کہ یہ درحقیقت قابض اسرائیلی حکومت کی ایجنڈے کو مضبوط کرتا ہے اور بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اس طریقہ کار کو فی الفور روکا جائے اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی و مقامی انسانی تنظیموں کے کردار کو مضبوط کیا جائے تاکہ وہ امداد کی تقسیم کو بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔
نیٹ ورک نے امدادی مراکز پر جاری "مسلسل جرائم" کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا، اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ تمام گزرگاہوں کو فوری طور پر کھولا جائے اور امدادی قافلوں کو اس انداز سے داخلے اور تقسیم کی اجازت دی جائے کہ شہریوں کی سلامتی اور وقار محفوظ رہے۔
طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، منگل کی صبح سے اب تک غزہ کی پٹی میں تقریباً 100 فلسطینی قتل ہو چکے ہیں، جن میں سے کم از کم 70 افراد خان یونس میں امدادی مرکز کے قریب مارے گئے۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا، حالاں کہ یہ واقعہ اُن متعدد ہلاکت خیز واقعات کا تسلسل ہے جو گزشتہ مہینوں میں پیش آ چکے ہیں اور عالمی سطح پر مذمت کا باعث بنے۔
اقوامِ متحدہ کی ریلیف ایجنسی (انروا) نے بھی اس صورت حال پر شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ "غزہ کے بھوکے لوگ اُس وقت قتل کیے جا رہے ہیں جب وہ اپنے خاندان کے لیے خوراک لینے آتے ہیں"۔ ایجنسی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی سابقہ محفوظ، مؤثر اور وسیع تر امدادی نظام کو بحال کیا جائے۔
اسی تناظر میں، فلسطینی تنظیم حماس نے بھی بیان دیا کہ امدادی مراکز "اجتماعی موت کے پھندے" بن چکے ہیں جنھیں قتل اور ذلت کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ حماس نے مطالبہ کیا کہ ایک محفوظ، آزاد اور بین الاقوامی امدادی نظام فوری طور پر قائم کیا جائے، اور ساتھ ہی عرب و اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس "قتل عام" کو روکنے اور محاصرہ ختم کرانے کے لیے فوری مؤثر اقدام کریں۔
مقامی و بین الاقوامی انسانی تنظیمیں پہلے ہی متعدد بار غزہ میں سیکیورٹی اور انسانی صورت حال کی بگڑتی ہوئی حالت پر تشویش ظاہر کر چکی ہیں۔ غذائی قلت اس قدر شدید ہے کہ لاکھوں افراد اپنی بقا کے لیے امدادی خوراک پر انحصار کر رہے ہیں۔
یہ تمام حالات ایسے وقت میں پیش آ رہے ہیں جب اسرائیل اکتوبر 2023 سے غزہ پر اپنی بھرپور فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جن کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور بنیادی ڈھانچہ بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔ دوسری طرف امدادی قافلے مسلسل رکاوٹوں، بند راستوں اور جاری جھڑپوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
-
غزہ مذاکرات میں "بڑی پیش رفت" ہوئی ہے : اسرائیلی میڈیا کا اعلان
"یدیعوت آحرونوت" اخبار نے بعض نا معلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ "ایک بڑی پیش ...
مشرق وسطی -
غزہ میں امداد کے تقسیمی مرکز کے قریب اسرائیلی فائرنگ، کم از کم 40 فلسطینی ہلاک
گذشتہ دنوں میں سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں: سربراہ انروا
مشرق وسطی -
غزہ میں جو کیا ایران میں بھی وہی کریں گے: اسرائیلی فوج کی دھمکی
اسرائیل اور ایران کے درمیان مسلسل چوتھے روز بھی محاذ آرائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج ...
مشرق وسطی