کھیل ختم نہیں ہوا، امریکی بمباری سے افزودہ یورینیم محفوظ ہے: مشیر علی خامنہ ای
حملوں کے پیچھے امریکہ اصل محرک اور اسرائیل کی ناکامی کے بعد میدان میں داخل ہوگیا: ایرانی صدر
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے بعد "کھیل ختم نہیں ہوا"۔
ولایتی نے سرکاری IRNA نیوز ایجنسی کے ذریعے کیے گئے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایرانی افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والے امریکی اڈے جائز اہداف بن چکے ہیں۔
ولایتی نے کہا کہ اس خطے یا اسلامی دنیا میں امریکہ یا اس کے اڈوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے عالم اسلام کے دل پر حملہ کیا اور اسے ناقابل تلافی نتائج کی توقع کرنی چاہیے کیونکہ اسلامی جمہوریہ اپنے خلاف کسی قسم کی تذلیل یا جارحیت کو قبول نہیں کرتا۔
قبل ازیں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ امریکی حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کے پیچھے اصل محرک واشنگٹن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کی بے بسی کا مشاہدہ کرنے کے بعد میدان میں آگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کئے جانے والے معاندانہ اقدامات کا اصل محرک امریکہ ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ امریکیوں کی جانب سے اپنے کردار کو چھپانے کی ابتدائی کوشش کے باوجود ایرانی مسلح افواج کے فیصلہ کن اور منہ توڑ جواب کے بعد اور صیہونی حکومت کی بے بسی کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہ براہ راست محاذ آرائی کے میدان میں اترنے پر مجبور ہوگئے۔
السفير الإيراني في #السعودية @Ali_RezaEnayati لـ "العربية.نت": عدوان #إسرائيل على بلادي قتل الشعب.. ومسار المفاوضات#إيران
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) June 22, 2025
عبر: @FaisallTV https://t.co/LNx3JIAbCL
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت میں نقصانات اور متعدد رہنماؤں، علمائے کرام اور عزیز شہریوں کی شہادت کے باوجود اختلافات کو پس پشت ڈالنے اور عوام کی زبردست توانائیوں کو متحرک کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ ایرانی عوام نے بار بار اپنی جانوں کی قربانی دینے کے لیے اپنی آمادگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی فوٹیج کے مطابق بعد ازاں پیزشکیان نے اسلامی جمہوریہ میں تین جوہری مقامات پر امریکی حملوں کی مذمت کے لیے دارالحکومت تہران میں ایک مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین نے اپنی مٹھی اٹھاتے ہوئے ’’ بدلہ، بدلہ‘‘ کے نعرے لگائے۔ ایرانی صدر نے وسطی تہران کے انقلاب سکوائر میں جمع ہونے والے ہجوم میں سے اپنا راستہ آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
-
ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی، حتمی فیصلہ سیکیورٹی حکام کرینگے
عباس عراقچی نے استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہائی ...
مشرق وسطی -
ایران : آبنائے ہرمز کی بندش کا فیصلہ پارلیمنٹ کی حمایت کے بعد کیا جائے گا
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا ...
بين الاقوامى -
ایران اسرائیل جنگ ، مصری عوام خوراک کا ذخیرہ محفوظ کر کے رکھیں : صدر السیسی
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ایران اسرائیل جنگ اور خطے کی جاری صورتحال کے پیش ...
مشرق وسطی