کھیل ختم نہیں ہوا، امریکی بمباری سے افزودہ یورینیم محفوظ ہے: مشیر علی خامنہ ای

حملوں کے پیچھے امریکہ اصل محرک اور اسرائیل کی ناکامی کے بعد میدان میں داخل ہوگیا: ایرانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے بعد "کھیل ختم نہیں ہوا"۔

ولایتی نے سرکاری IRNA نیوز ایجنسی کے ذریعے کیے گئے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایرانی افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والے امریکی اڈے جائز اہداف بن چکے ہیں۔

ولایتی نے کہا کہ اس خطے یا اسلامی دنیا میں امریکہ یا اس کے اڈوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے عالم اسلام کے دل پر حملہ کیا اور اسے ناقابل تلافی نتائج کی توقع کرنی چاہیے کیونکہ اسلامی جمہوریہ اپنے خلاف کسی قسم کی تذلیل یا جارحیت کو قبول نہیں کرتا۔

قبل ازیں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ امریکی حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کے پیچھے اصل محرک واشنگٹن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کی بے بسی کا مشاہدہ کرنے کے بعد میدان میں آگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کئے جانے والے معاندانہ اقدامات کا اصل محرک امریکہ ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکیوں کی جانب سے اپنے کردار کو چھپانے کی ابتدائی کوشش کے باوجود ایرانی مسلح افواج کے فیصلہ کن اور منہ توڑ جواب کے بعد اور صیہونی حکومت کی بے بسی کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہ براہ راست محاذ آرائی کے میدان میں اترنے پر مجبور ہوگئے۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت میں نقصانات اور متعدد رہنماؤں، علمائے کرام اور عزیز شہریوں کی شہادت کے باوجود اختلافات کو پس پشت ڈالنے اور عوام کی زبردست توانائیوں کو متحرک کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ ایرانی عوام نے بار بار اپنی جانوں کی قربانی دینے کے لیے اپنی آمادگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی فوٹیج کے مطابق بعد ازاں پیزشکیان نے اسلامی جمہوریہ میں تین جوہری مقامات پر امریکی حملوں کی مذمت کے لیے دارالحکومت تہران میں ایک مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین نے اپنی مٹھی اٹھاتے ہوئے ’’ بدلہ، بدلہ‘‘ کے نعرے لگائے۔ ایرانی صدر نے وسطی تہران کے انقلاب سکوائر میں جمع ہونے والے ہجوم میں سے اپنا راستہ آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں