سعودی عرب میں اہم منصوبوں کے لیے 15 فیصد تک مراعات دی جا رہی ہیں:وزارتِ سرمایہ کاری
وزارت سرمایہ کاری کی توجہ صرف غیر ملکی نہیں مقامی اور بیرونِ ملک سعودی سرمایہ کاروں پر بھی ہے
سعودی عرب کی وزارتِ سرمایہ کاری نے واضح کیا ہے کہ وہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے جامع مراعاتی نظام فراہم کر رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سعودی عرب کو خطے اور دنیا میں سرمایہ کاری کے ایک پرکشش مرکز کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔
وزارتِ سرمایہ کاری کے معاون وزیر عبداللہ الدبیخی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو میں بتایا کہ وزارت سرمایہ کاری میں قائم "سرمایہ کاری مراعات کمیٹی" ایک خودمختار ادارہ ہے، جو ہر منصوبے کا الگ الگ جائزہ لے کر مراعات کی اہلیت کا فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اہم نوعیت کے ایسے منصوبے جن سے 9 فیصد تک کا منافع متوقع ہو انہیں مالی مراعات دی جاتی ہیں، جو 15 فیصد تک پہنچ سکتی ہیں۔
عبداللہ الدبیخی نے زور دے کر کہا کہ وزارت سرمایہ کاری کا کام صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا نہیں بلکہ سعودی سرمایہ کاروں، چاہے وہ اندرونِ ملک ہوں یا بیرونِ ملک ان کی بھی مکمل معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت سرمایہ کاری نے بعض ممالک میں سعودی سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
چار ملین ریال فی لائسنس کی مراعات
معاون وزیر نے بتایا کہ بعض مخصوص شعبوں خصوصاً معدنیات کے شعبے کے لیے خصوصی مراعات رکھی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ہر تلاش کے لائسنس پر سرمایہ کار کو 4 ملین ریال تک کا مراعاتی پیکیج دیا جاتا ہے، جو تحقیقاتی و بنیادی اخراجات کے لیے مختص ہوتا ہے۔
سیاحت کے شعبے میں "حوافزِ ضیافت" پروگرام کو ابتدائی طور پر 10 شہروں میں نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری زمینوں کا کرایہ اور مختلف فیسیں واپس کی جاتی ہیں۔ نیشنل ٹورازم اسٹریٹجی کی منظوری کے بعد یہ پروگرام دیگر علاقوں میں بھی نافذ کیا جائے گا۔ وزارت کی خواہش ہے کہ یہ منصوبہ نجران کے علاقے میں بھی نافذ ہو۔
بین الاقوامی جامعات کو سعودی عرب میں پروگرام متعارف کرانے کی ترغیب
عبداللہ الدبیخی نے بتایا کہ وزارت سرمایہ کاری بین الاقوامی جامعات کو سعودی عرب میں اپنے تعلیمی پروگرام متعارف کرانے کے لیے بھرپور مراعات فراہم کر رہی ہے۔ سعودی تعلیمی اداروں کو بھی بین الاقوامی شراکت داریوں پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر یونیورسٹی کو اپنی علاقائی ضروریات کے مطابق ترقیاتی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا: "میں تمام جامعات خصوصاً جامعہ نجران کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ اگر اس میں سیاحت یا معدنیات کا شعبہ موجود نہیں تو یہ ایک سنجیدہ خلل ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔"
1.2 ارب ریال کی سرمایہ کاری
عبداللہ الدبیخی کے مطابق وزارت نے اب تک نجران ریجن میں تقریباً 100 سرمایہ کاروں کو رجسٹر کیا ہے، جن کی مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 1.2 ارب ریال ہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار وزارت کی امیدوں سے کم ہیں اور اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔
34 سرمایہ کاری کے مواقع، 8 ارب ریال کی مالیت
انہوں نے بتایا کہ "استثمر فی السعودیہ" پلیٹ فارم پر اس وقت نجران ریجن میں سرمایہ کاری کے 34 مواقع موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت 8 ارب ریال کے لگ بھگ ہے۔ وزارت ان مواقع کو مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر مربوط انداز میں فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے یہ گفتگو نجران انویسٹمنٹ فورم 2025ء کے ایک مکالماتی سیشن کے دوران ہوئی، جس میں خطے میں سرمایہ کاری کے امکانات، نمایاں شعبہ جات کو ترقی دینے کے طریقے اور سرکاری شراکت داری کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی۔
-
سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
سنہ2025ء کی پہلی سہ ماہی میں سعودی شہریوں میں بے روزگاری 6.3 فیصد، مجموعی شرح 2.8 ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کی جانب سے یمن اور سوڈان میں ہزاروں کی تعداد میں امداد کی تقسیم
شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کی کوششوں کے تحت
مشرق وسطی -
سعودی عرب : خلیجی ممالک کے شہریوں کے لیے عمرہ کی ادائیگی کی اجازت شروع
سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ...
مشرق وسطی