"اسرائیلی وزیر کی جانب سے غرب اردن کے انضمام کی تجویز خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اسرائیلی وزیر انصاف یاریو لیوین کے اُس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے موجودہ حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غرب اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کی بات کی تھی۔ انہوں نے اس تجویز کو "انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ" قرار دیا۔

ابو الغیط نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے اس نوعیت کا بیان نہایت تشویشناک رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بہ قول اسرائیل طاقت کے زعم میں عالمی قوانین اور اخلاقی اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہا ہے اور اس کا جارحانہ طرز عمل علاقے کو ایک نہ ختم ہونے والے تشدد کے دائرے میں دھکیل رہا ہے۔

"یہ انتہا پسند اسرائیلی عناصر کا ایجنڈا ہے"

ابو الغیط کا کہنا تھا کہ غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنا دائیں بازو کی انتہا پسند اسرائیلی قوتوں کا دیرینہ مقصد ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین پالیسی کے خلاف مضبوط موقف اپنائے، کیونکہ یہ پورے خطے میں شدید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی رائے عامہ کے مطابق غرب اردن فلسطینی سرزمین ہے، جو قابض قوت کے کنٹرول میں ہے۔ اس کا انضمام ایک "سیاسی غنڈہ گردی" ہے، جو عالمی اقدار اور بین الاقوامی ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اسرائیلی وزیر کا اشتعال انگیز بیان

اسرائیلی وزیر انصاف یاریو لیوین نے حالیہ دنوں میں ایک ملاقات کے دوران کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل غرب اردن کو اپنے اندر شامل کر لے"۔ ان کے بقول، یہ معاملہ اسرائیلی ترجیحات میں سرفہرست ہونا چاہیے۔

فلسطینی قیادت کا سخت ردعمل

فلسطینی صدارتی دفتر نے بدھ کے روز اسرائیلی اقدامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غرب اردن کے انضمام کی کوششیں فلسطینی عوام کے خلاف "ہمہ گیر جنگ" کا حصہ ہیں، جو پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جا سکتی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان اقدامات کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں، اور یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فلسطینی قیادت نے واضح کیا کہ سنہ 1967 میں قبضہ کی گئی تمام فلسطینی سرزمین، بشمول شرق بیت المقدس، اسرائیلی تسلط سے آزاد ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں