غزہ میں بھوک تباہی کی سطح کو چھو چکی ہے، نہ خوراک ہے نہ دوائی: انروا

بھوک اور فاقوں کا شکار فلسطینی بے ہوش ہو کر گلیوں میں گر رہے ہیں کہ انہوں نے کئی روز سے نہ کچھ کھایا ہے نہ پیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی'انروا' کا کہنا ہے کہ غزہ میں بھوک تباہی کی سطح کو چھو چکی ہے کہ غزہ میں کھانے کو کچھ موجود ہے نہ ادویات میسر ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہی ہے۔

'انروا' کے مطابق بھوک اور فاقوں کا شکار فلسطینی بے ہوش ہو کر گلیوں میں گر رہے ہیں کہ انہوں نے کئی روز سے نہ کچھ کھایا ہے نہ پیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس ادارے نے کہا ہے کہ غزہ کے رہائشی مکمل طور پر خوراک سے محروم ہو گئے ہیں۔ حتی کہ ان کے لیے دوائی بھی نہیں ہے۔

غزہ میں امداد تقسیم کرنے والے میکینزم کے نتیجے میں غزہ کے لوگوں کی توہین کی گئی ہے، انہیں لوٹا گیا ہے، ڈرایا گیا ہے، زخمی کیا گیا ہے اور غزہ کے رہنے والے فلسطینیوں کو انسانی وقار سے بھی محروم کیا گیا ہے۔

'انروا' نے جمعرات کے روز ان فلسطینیوں کے بارے میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے جنہیں امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ ادارے 'غزہ فاؤنڈیشن' سے امداد لینے پر ہلاک کر دیا ہے۔

'فیس بک' پر لگائی گئی ایک پوسٹ میں 'انروا' نے کہا ہے غزہ کے رہائشی خاندانوں کو کھانے کے لیے ہر چیز کی ضرورت ہے۔ ان کے پاس کھانے کو کچھ دستیاب نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں بہت تھوڑی امداد آنے کی اجازت دی اور لوگ اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے امدادی ٹرکوں کے نیچے آگئے۔

اقوام متحدہ کے اس ادارے کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں امداد و خوراک کی تقسیم کو محفوظ، آسان اور باوقار بنایا جائے۔

'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے 'انروا' کے مطالبے پر کچھ ایسی گواہیاں، ویڈیو فوٹیجز اور شائع شدہ گواہیاں حاصل کی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ امریکی سول کنٹریکٹر خوراک تقسیم کرنے والی جگہوں پر لوگوں کو بارود بھری گولیوں سے نشانہ بنا رہے تھے اور خوراک کی طرف لپکنے والے بھوکے فلسطینیوں پر ہینڈ گرینیڈ استعمال کر رہے تھے۔

اس دوران سول کنٹریکٹرز میں سے بعض نے 'روئٹرز' سے بات کرتے ہوئے کہا ہم نے اپنے طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم اس موضوع پر بات کریں گے کیونکہ غزہ میں جو کچھ جنگ کے متاثرین کے ساتھ ہو رہا ہے انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

خیال رہے 'غزہ فاؤنڈیشن' امریکی حمایت یافتہ ادارہ ہے۔ یہ ماہ فروری میں قائم کیا گیا تاکہ غزہ میں جاری انسانی ساختہ قحط میں خوراک کی تقسیم کا کام کرے۔ ماہ مئی سے جاری خوراک کی تقسیم کے اس منصوبے میں اسرائیلی فوج خوراک کے انتظار میں ان بھوک زدہ فلسطینیوں کو گولیوں کا نشانہ بناتی ہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے 600 سے زائد ایسے فلسطینیوں کو اس دوران قتل کیا جبکہ وہ خوراک کے انتظار میں تھے۔ جبکہ 4186 فلسطینی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں