خلیجی ممالک کی سیاحتی ویزا پالیسی میں بڑی پیش رفت، جلد متحدہ ویزہ جاری کرنے کا اعلان
متحدہ ویزا جلد متعارف ہوگا جس کے ذریعے کسی بھی شخص کو 90 دن تک کسی بھی خلیجی ملک میں قیام کی سہولت ہوگی
خلیجی ممالک جلد ہی ایک متحدہ سیاحتی ویزا متعارف کرانے جا رہے ہیں، جس کے ذریعے سیاح خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی تمام چھ رکن ریاستوں کا سفر ایک ہی ویزا پر کر سکیں گے۔ اس نئی سہولت کے تحت چھ مختلف ممالک کے لیے الگ الگ ویزا درخواستیں دینے کی ضرورت ختم ہو جائے گی، جبکہ ویزا کی مدت ایک سے تین ماہ تک ہو گی۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے بتایا کہ سیاحتی ویزے کا اجرا جلد متوقع ہے اور اس حوالے سے جی سی سی ممالک کی وزارت داخلہ کے پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹس کی مشترکہ فنی ملاقاتیں جاری ہیں تاکہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
اس نئی ویزا پالیسی کا مقصد بیرونی سیاحوں کو خطے کی زیادہ سے زیادہ ریاستوں کی سیر کا موقع دینا ہے، وہ بھی کم ترین انتظامی پیچیدگیوں کے ساتھ، جس سے سفری وقت اور اخراجات دونوں میں بچت ہو گی۔
ایک ہی درخواست کافی
سیاح اس متحدہ ویزے کے لیے آن لائن صرف ایک درخواست کے ذریعے اپلائی کر سکیں گے، اور تمام چھ خلیجی ممالک کی سیاحت کے لیے چند ہی منٹوں میں ویزا حاصل کیا جا سکے گا۔ اس سے علیحدہ علیحدہ ویزوں کی جھنجھٹ بھی ختم ہو جائے گی اور مجموعی اخراجات میں کمی آئے گی۔
اس سہولت کے تحت نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ سیاحوں کو ایک ہی درخواست اور فیس میں تمام ممالک کی سیر ممکن ہو سکے گی۔ یوں ’جی سی سی‘ کا سیاحتی ویزا ان افراد کے لیے موزوں انتخاب ہو گا جو پورے خطے کو دریافت کرنا چاہتے ہیں۔
درخواست دینے کی شرائط
سیاحتی ویزے کے سرکاری پورٹل کے مطابق، درخواست دہندہ کو ویزا کے اجرا سے پہلے ضروری کاغذات جمع کرانا ہوں گے جن میں مکمل شدہ درخواست فارم، پاسپورٹ کی نقل، ہوٹل کی بکنگز، سفری منصوبہ اور رکن ممالک کے درمیان سفر کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
اس کے علاوہ، سیاح کے پاس فعال سفری بیمہ ہونا ضروری ہے جو طبی اخراجات، ہنگامی صورت حال، اور واپسی کے اخراجات کو کور کرے۔ بینک اسٹیٹمنٹ یا دیگر مالی دستاویزات بھی درکار ہوں گی تاکہ سیاح کی مالی حیثیت اور اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت کا ثبوت پیش کیا جا سکے۔
درخواست گزار کو واپسی کی ٹکٹ یا کسی تیسرے ملک کے لیے روانگی کی ٹکٹ کا بھی ثبوت دینا ہو گا، ساتھ ہی رہائش کا بندوبست بھی دکھانا لازم ہو گا۔
یہ نئی پالیسی نہ صرف سیاحت کو فروغ دے گی بلکہ خلیجی ممالک کو ایک مشترکہ سیاحتی منزل کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔