غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کا موقع موجود ہے:نیتن یاھو

اگر عبوری معاہدہ طے پا گیا تو اسرائیل مستقل جنگ بندی پر بات چیت کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ غزہ میں 60 دن کے لیے جنگ بندی اور نصف مغویوں کی رہائی کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکی ٹی وی چینل "فوکس بزنس" سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

نیتن یاھو نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران اقوام متحدہ ممکنہ طور پر امدادی سامان کی تقسیم میں شریک ہوگی، تاہم اسرائیل اس بات پر قائم ہے کہ امداد حماس سے ہٹ کر ایک منظم طریقے سے تقسیم کی جائے۔

مستقل جنگ بندی کی بات چیت مشروط

ادھر اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ ہے اور اگر عبوری جنگ بندی پر اتفاق ہوا تو اس کے بعد مستقل معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

حماس کو پیغام

ایک باخبر ذریعے کے مطابق امریکی مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے فلسطینی نژاد امریکی بزنس مین بشارہ بحبح کے ذریعے حماس کو پیغام دیا ہے کہ اگر 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مذاکرات جاری رہے تو فائر بندی بھی برقرار رکھی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس کی ضمانت دے گی۔

ویٹکوف کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ دوحہ مذاکرات میں چار میں سے تین اہم نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے، اور امید ہے کہ ہفتے کے اختتام تک کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔

فوجی انخلا پر اختلاف

مذاکرات میں بنیادی اختلاف اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا پر ہے۔ حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیلی فوج مارچ میں پچھلی جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے کی پوزیشنوں تک واپس جائے، جبکہ اسرائیل اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

فریقین اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ امداد کی تقسیم اقوام متحدہ یا دیگر غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے کریں گے، جو نہ اسرائیل کے زیر انتظام ہوں گے اور نہ حماس کے۔

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل اور امریکا کی حمایت یافتہ "غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن" کو اپنی سرگرمیوں میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب، حماس اس بات کی ضمانت چاہتی ہے کہ مذاکرات کے دوران اسرائیل دوبارہ جنگ کا آغاز نہ کرے اور اقوام متحدہ پرانی تقسیم کے نظام کے مطابق امداد پہنچائے۔

نئے معاہدے کے تحت 10 مغویوں کی رہائی متوقع

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر میں اتوار کی شب سے غیر رسمی مذاکرات کا نیا دور جاری ہے، جس کا مقصد دو ماہ کی جنگ بندی کا معاہدہ ہے۔ اس دوران حماس، 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں گرفتار کیے گئے افراد میں سے دس مغویوں کو رہا کرے گی۔

اس کے بدلے اسرائیل اپنے ہاں قید فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق، یہ معاہدہ فریقین کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

واضح رہے کہ حماس نے 2023 کے حملے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا تھا، جن میں سے 49 اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔ ان میں 27 کے بارے میں اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ بقیہ 20 کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں