فلسطینی ذرائع نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات، پیش کردہ نکات پر جمود کے باوجود، تا حال جاری ہیں۔
ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ "فلاڈلفیا راہ داری" سے متعلق اسرائیلی انخلا کا معاملہ ... امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے دورہ قطر کے مکمل ہونے تک، ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آج بروز ہفتہ ہونے والے ان مذاکرات میں قیدیوں سے متعلق امور اور غزہ میں امداد کے داخلے کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
إعلام إسرائيلي عن مصادر:
— العربية (@AlArabiya) July 12, 2025
. حجم الانسحاب الإسرائيلي من قطاع غزة لا يزال نقطة الخلاف
. لا تقدم في المفاوضات بالدوحة خلال الـ 24 ساعة الأخيرة
. ضغوط أميركية على حماس لتأجيل بحث نطاق الانسحاب الإسرائيلي من غزة حاليا#العربية_عاجل#قناة_العربية pic.twitter.com/e8YE7gF98L
ادھر اسرائیلی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اور یہ کہ غزہ سے اسرائیلی انخلا کی حد اب بھی ایک متنازع نکتہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ، حماس پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ فی الحال انخلا کے دائرے اور حجم پر بات چیت مؤخر کرے۔
ادھر یورپی یونین کی خارجہ و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں انسانی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
کالاس نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل نے یومیہ امدادی ٹرکوں کی تعداد میں بڑے اضافے پر رضامندی ظاہر کی ہے، مزید سرحدی گزرگاہیں کھولنے اور امدادی سامان کے داخلے کے راستے دوبارہ کھولنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ غذائی رسد، بشمول روٹیوں کے لیے تنور اور عوامی باورچی خانوں کی ترسیل کو بھی ممکن بنایا جائے گا۔
ان اضافی اقدامات میں ایندھن کی ترسیل کی بحالی بھی شامل ہے۔ کایا کالاس کے مطابق یہ تمام اقدامات آئندہ دنوں میں نافذ العمل ہوں گے۔
اسی حوالے سے یورپی کمیشن کے ترجمان انور العونی نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے اس نئے معاہدے میں "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن" شامل نہیں ہے۔ العونی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امدادی سامان کی ترسیل کی ذمہ داری اقوامِ متحدہ کی ایجنسیاں اور غیر سرکاری تنظیمیں سنبھالیں گی۔
اسی سیاق میں، "ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز" (Médecins Sans Frontières) نے غزہ میں غذا کی غیر معمولی اور شدید قلت سے خبردار کیا ہے۔ تنظیم نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں کیسز کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ چکی ہے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ اس وقت اس کی ٹیمیں غزہ شہر اور المواصی قصبے کے دو طبی مراکز میں 1200 سے زائد کیسز کا علاج کر رہی ہیں، جن میں زیادہ تر حاملہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔
تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے عوام کے لیے بھوک کا خاتمہ فوراً ممکن ہے، بشرطیکہ کافی مقدار میں انسانی امداد اندر داخل ہونے دی جائے۔
میدانی صورتِ حال کے حوالے سے، طبی ذرائع نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 88 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے المواصی کے علاقے میں بے گھر افراد کے کیمپوں کو نشانہ بنایا، ساتھ ہی دیر البلح میں ایک عام گاڑی اور ایک ایندھن سٹیشن کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنوب میں خان یونس میں اپنی کارروائیاں مزید بڑھا دی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر ایک اچانک حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1219 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے کے دوران اغوا کیے گئے 251 افراد میں سے اب بھی 49 افراد غزہ میں زیرِ حراست ہیں، جن میں 27 کے بارے میں اسرائیل اعلان کر چکا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے جاری تباہ کن جنگ میں اب تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 57,823 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
-
اسرائیلی حکام نے مطالبہ کیا کہ ہم غزہ میں امداد پہنچانے کا مرکزی ذریعہ رہیں: اقوام متحدہ
گزشتہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ ...
مشرق وسطی -
امداد پر پابندی، غزہ میں حاملہ خواتین کے بھوک سے اموات کا خطرہ بڑھ گیا
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے کلینکس میں 700 سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین ...
مشرق وسطی -
اسرائیل: غزہ میں پانچ فوجیوں کی ہلاکت پر اظہار مسرت کرنے والا اسرائیلی صحافی گرفتار
اسرائیل کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز ایک اسرائیلی صحافی کی حراست میں توسیع کی ہے ...
مشرق وسطی