جوہری توانائی کے معائنہ کاروں کے جوتوں میں جاسوسی چپس ملیں: ایران

تہران نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون معطل کر دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین محمود نبویان نے بتایا ہے کہ تہران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے جوتوں میں اس وقت مشکوک جاسوسی چپس دریافت کی ہیں جب وہ ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ کر رہے تھے۔

نیوز ایجنسی ’’ فارس‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں نبویان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی کارکردگی پر تنقید کی اور کچھ ایرانی جوہری تنصیبات کی شناخت کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں کیسے پتہ چلتا ہے کہ ہماری نطنز میں جوہری تنصیبات ہیں؟ وہ عام طور پر اسے یا تو امریکہ کے سیٹلائٹس کے ذریعے معلوم کرتے ہیں یا سیکیورٹی اداروں کے ذریعے۔ ہم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے پاس اب ہماری تین مقامات کے بارے میں دعوے ہیں جن کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ وہ ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ کیا یہ صرف اتنا ہی ہے کہ اسرائیل نے آپ کو ہمارے ان مراکز کے بارے میں معلومات فراہم کردی ہیں؟ کیا اسرائیل نے آپ کو ہم سے متعلق دستاویزات فراہم کی ہیں؟ لیکن آپ اسرائیل کی بات کیوں سنتے ہیں؟ کیا اسرائیل عدم پھیلاؤ معاہدے کا رکن ہے؟ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ آپ جاسوسی کر رہے ہیں۔

محمود نبويان -
محمود نبويان -

گروسی نے ہماری رپورٹس اسرائیل کو دیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین محمود نبویان نے مزید کہا کہ ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے اسرائیلی خفیہ دستاویزات حاصل کیں اور کہا کہ ہم نے اسرائیل سے دس ملین دستاویزات حاصل کی ہیں اور یہ جاننا دلچسپی کا باعث بنا کہ عدم پھیلاؤ معاہدے کے رکن کے طور پر ہمیں اپنی رپورٹس ایجنسی کو پیش کرنی چاہئیں لیکن گروسی نے ہماری رپورٹس اسرائیل کو دیں!۔ انہوں نے گروسی سے مخاطب ہوتے ہوئے مزید کہا کہ جب ہم کہتے ہیں جاسوسی تو ہم یہ ثبوت کے ساتھ کہتے ہیں۔

ایرانی نائب نے وضاحت کی کہ جب ہم ایجنسی کو خفیہ رپورٹس پیش کرتے تھے تو ایجنسی میں ان پر بحث کرنے سے پہلے معلومات اخبارات میں شائع ہو جاتی تھیں حالانکہ ان معلومات کی اشاعت ممنوع ہے ۔ اس پر ایجنسی کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی اور امریکی اخبارات ایران کی جوہری معلومات شائع کرتے ہیں۔

یاد رہے صدر مسعود بزشکیان کے پارلیمنٹ کی جانب سے گزشتہ ماہ منظور کردہ قانون پر دستخط کرنے کے بعد ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون باضابطہ طور پر معطل کر دیا تھا۔ ایران نے ایجنسی کے ساتھ تعاون روکنے کی دھمکی دی تھی اور اس پر مغربی ممالک کی طرفداری کا الزام لگایا تھا۔ ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اس فیصلے پر ووٹنگ کے اگلے ہی دن اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کردیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے تناظر میں تہران اور اقوام متحدہ کی ایجنسی کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں