سعودی عرب کی طرف سے غزہ میں گرجا گھر پر اسرائیلی بمباری کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب نے اسرائیلی فوج کی غزہ میں ایک گرجا گھر پر جمعرات کے روز کی گئی بمباری کی مذمت کی ہے۔ سعودی بیان میں شہریوں اور عبادت گاہوں پر کی جانے والی بمباری کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ یہ مذمتی بیان جمعرات کے روز سعودی وزارت خاجہ نے جاری کیا ہے۔

بیان کے مطابق اسرائیل کی طرف سے بار بار کیے جانے والے یہ حملے تقاضا کرتے ہیں کہ ان جرائم اور اسرائیلی قبضے کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی واضح موقف اور سخت موقف سامنے ائیے ۔کیونکہ یہ حملے علاقائی استحکام کے لیے سخت خطرناک ہیں۔ مملکت نے اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری سے بالعموم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بالخصوص مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو ان حملوں کے لیے کٹہرے میں کھڑا کر کے احتسابی میکانزم کو بروئے کار لایا جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی ان خلاف ورزیوں کے لیے جواںدہ ٹھہرایا جائے۔

واضح رہے غزہ کے اس کیتھولک گرجا گھر پر اسرائیلی فوجی حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے ہیں۔ اس سے پہلے

یروشلم کے لاطینی مسیحی سرپرست نے، جو چھوٹے فرقے کے گرجا گھروں کی نگرانی کرتے ہیں نے بھی جمعرات کے روز معصوم شہریوں اور ایک مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا اس سے پہلے ہولی فیملی چرچ پر بھی حملے میں دو خواتین اور ایک مرد کی ہلاکت ہو گئی تھی۔ یاد رہے یہ ہلاک ہونے والی دونوں خواتین ماں بیٹی تھیں۔

انہوں نے کہا اس مسلسل جاری خوفناک جنگ کو مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق غزہ میں جنگ متاثرہ کچھ افراد نے اپنے گھر بار اور سب کچھ کی تباہی کے بعد اس گرجا گھر کے احاطے کو ایک محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کر رکھا تھا۔

اس سلسلے میں ہولی فیملی چرچ نے ایک الگ بیان میں کہا ہے پوپ لیو اس واقعے پر انتہائی غم زدہ ہیں اور انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔

یاد رہے غزہ میں اس گرجا گھر پر حملے میں زخمی ہونے والے کئی افراد کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ پوپ کی طرف سے یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ بات چیت اور مکالمے کے ذریعے مفاہمت پیدا کر لی جائے گی اور خطے میں امن و استحکام لایا جائے۔

ٹیلی گرام کے مطابق پوپ کا یہ بیان ویٹیکن سے جاری کیا گیا اور اس پر ویٹیکن کے سیکرٹری کے دستخط ثبت ہیں۔ تاہم بیان میں کہیں بھی اسرائیل یا اسرائیلی فوج کا نام نہیں لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ' ایکس ' پر اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کو دیکھا جارہا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائیں جائیں گی۔

اسرائیلی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبادت گاہوں پر اسرائیل بمباری نہیں کرتا اور نہ ہی شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے اسی حملے میں گرجا گھر کے پادری بھی زخمی ہوگئے ہیں۔ جنہیں بعد ازاں الاہلی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ دوسری جانب غزہ۔میں اب تک کی ہلاکتیں سارھے اٹھاون ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ان میں دوتہائی تعداد عورتوں اور بچوں کی یے۔

دریں اثنا اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی اپنے ایک بیان میں غزہ میں گرجا گھر پر اسرائیلی فوجی حملے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مذہبی مقام پر اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ جو پچھلے کئی ماہ سے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

میلونی نے کہا یہ سب ناقابل قبول ہے اور کسی بھی صورت اس طرح کے جنگی حملوں کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں