سویدا میں کوئی نقل و حرکت یا تعیناتی نہیں، ہماری فورسز اپنی جگہ پر ہیں: شامی وزرت داخلہ

دمشق نے سویداء صوبے میں داخلی سیکیورٹی فورسز کے داخل ہونے کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی وزارت داخلہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی علاقے سویداء میں اب تک سیکیورٹی فورسز کی کوئی نقل و حرکت یا تعیناتی نہیں ہوئی، اور وزارت کی فورسز "عام تیاری کی حالت" میں ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نورالدین البابا نے آج جمعے کے روز واضح کیا کہ بعض خبر رساں ادارے اور میڈیا چینلوں نے داخلی سیکیورٹی فورسز کے سویداء میں داخلے سے متعلق غیر درست خبریں نشر کیں۔ انھوں نے مزید کہا "ہم اس بارے میں کسی بھی سرکاری بیان کے اجرا کی تردید کرتے ہیں اور شائع شدہ اطلاعات کو مکمل طور پر غلط قرار دیتے ہیں۔"

ان کے مطابق وزارت داخلہ کی فورسز عمومی تیاری کی حالت میں ہیں اور اب تک صوبے میں ان کی کوئی نقل و حرکت یا تعیناتی نہیں ہوئی ہے۔ یہ بات شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے بتائی۔

اس سے قبل وزارت کے ایک ترجمان نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ سیکیورٹی فورسز سویداء شہر میں دوبارہ تعیناتی کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ دروز قبائل اور بدوی قبائل کے درمیان جاری جھڑپوں کو روکا جا سکے۔

دوسری طرف "العربیہ" اور "الحدث" چینل کے کیمروں نے سویداء کے اطراف میں سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کو ریکارڈ کیا ہے۔ یہ نقل و حرکت حالات کے مزید بگڑنے کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔

سویداء کے شہریوں کے لیے مشترکہ آپریشن روم

دوسری جانب شام کے وزیر برائے ہنگامی حالات نے بتایا ہے کہ سویداء کے شہریوں کی اپیلوں پر فوری رد عمل کے لیے ایک مشترکہ آپریشن روم قائم کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا "ہم نے اب تک 570 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی ہے اور جمعرات کی صبح تک 87 جاں بحق افراد کو منتقل کیا۔"

کشیدگی کم کرنے کی کوششیں

جمعرات کے روز شامی ایوانِ صدارت نے بتایا کہ سویداء سے فوجی انخلا کا فیصلہ کشیدگی کو کم کرنے اور مزید تصادم سے بچنے کے لیے کیا گیا تھا، اور یہ فیصلہ امریکی و عرب ثالثی کی کوششوں کے جواب میں کیا گیا۔

تاہم صدارتی بیان میں کہا گیا کہ "قانون سے منحرف عناصر" نے سویداء میں فریقین کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی، اور ایسے "خوفناک جرائم" کا ارتکاب کیا جو مکمل طور پر ثالثی کی شرائط سے متصادم ہیں، ملکی امن کو براہ راست خطرے میں ڈالتے ہیں اور سیکیورٹی کی مکمل تباہی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سویداء میں 13 جولائی سے مسلسل کشیدگی جاری ہے، جو اس وقت بھڑکی جب مقامی مسلح گروہوں اور حکومت کے حامی بدوی قبائل کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہ جھڑپیں صوبے کے دیہی علاقوں میں تنازعات ختم کرانے کی کارروائیوں کے دوران شروع ہوئیں، جن کے نتیجے میں متعدد شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں