شام کے الشرع نے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف کا مظاہرہ کیا: ترک صدر ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے شام کے تنازعے میں اسرائیل سے سمجھوتہ نہ کرنے اور مضبوط مؤقف کا مظاہرہ کرنے پر اپنے شامی ہم منصب احمد الشرع کی تعریف کی اور کہا کہ الشرع نے دروز کے ساتھ مفاہمت کر کے ایک "بہت مثبت" قدم اٹھایا ہے۔

سرکاری میڈیا اور عینی شاہدین نے بتایا کہ شام کے دروز اکثریتی شہر سویدا سے سینکڑوں بدو شہریوں کو سوموار کو نکالا گیا جو امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کا ایک حصہ ہے۔ اور اس کا مقصد لڑائی کو ختم کرنا ہے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پیر کے روز ترک میڈیا کو جاری کردہ تبصروں میں ایردوآن نے کہا کہ شام کی حکومت نے تقریباً 2500 فوجیوں کے ساتھ سویدا اور ملک کے جنوب میں کچھ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک دروز دھڑے کے علاوہ باقی تمام نے جنگ بندی کا احترام کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے شمالی قبرص سے واپسی پر پرواز میں صحافیوں کو یہ بھی بتایا، امریکہ اب سمجھ گیا ہے کہ اسے اس مسئلے کو مزید "اپنانے" کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل اس لڑائی کو شامی سرزمین پر حملہ کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں