ایک مصری کارکن نے منگل کے روز دی ہیگ میں اپنے ملک کے سفارت خانے کے بیرونی دروازوں کو تالا لگا کر قاہرہ کی جانب سے رفح راہداری کی مبینہ بندش کے خلاف احتجاج کیا جس سے محصور فلسطینیوں کے لیے غزہ میں امداد کا داخلہ رک گیا ہے۔
انس حبیب ایک سوشل میڈیا شخصیت اور مواد کے تخلیق کار ہیں جنہوں نے اپنے اس عمل کی لائیو سٹریمنگ کرتے ہوئے سفارت خانے کے دروازےکو تالے لگا دیئے جو بظاہر موٹر سائیکل کے تالے تھے۔
حبیب نے کہا، ان کے اقدامات علامتی ہیں اور وہ غزہ کے جاری محاصرے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں فلسطینی بھوکے مر رہے ہیں۔
"ہمیں یہی عذر سنتے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں کہ یہ ہماری نہیں بلکہ ان کی طرف سے بند ہے، وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی جھوٹ اور محاصرے کو نہیں سنبھال سکتے، تصور کریں کہ غزہ میں ہر کوئی گذشہ دو سالوں سے روزانہ آپ کا جھوٹ سن کر کیسا محسوس کر رہا ہے،" انہوں نے کہا۔
حبیب نے کہا، "میں پولیس کے آنے تک یہیں کھڑا رہوں گا کیونکہ میں یہ تب تک نہیں کھولوں گا جب تک غزہ نہ کھل جائے۔ وہ خود تالا توڑ لیں۔"
مصری حکومت نے حبیب کے اس اقدام اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔
مصر نے ماضی میں مبینہ طور پر نشاندہی کی ہے کہ غزہ کی جانب سے رفح راہداری اسرائیلی فوج نے بند کی ہے۔