دمشق میں 'سعودی - شامی سرمایہ کاری فورم' کا آغاز، 15 ارب ریال مالیت کے معاہدوں کی توقع
فورم میں شامی صدر احمد الشرع بھی شریک ہیں
شام کے دار الحکومت دمشق میں آج جمعرات کے روز 'سعودی – شامی' سرمایہ کاری فورم کا آغاز ہوا، جس میں شام کے صدر احمد الشرع نے بھی شرکت کی۔
یہ فورم دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے، مشترکہ منصوبوں پر بات چیت کرنے اور پائے دار ترقی کے لیے معاہدے کرنے کے مقصد سے منعقد کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی سعودی وفد بدھ کے روز شام پہنچا، جس میں حکومتی عہدے داروں کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے تاجر اور سرمایہ کار شامل ہیں۔ وفد کا مقصد تقریباً 4 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کرنا ہے، جن میں زیادہ تر مفاہمتی یادداشتیں اور مشترکہ منصوبے شامل ہوں گے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح اور 120 سرمایہ کاروں پر مشتمل وفد فورم میں شرکت کر رہا ہے۔
متوقع معاہدوں کی مجموعی مالیت 15 ارب سعودی ریال (تقریباً 4 ارب ڈالر) سے تجاوز کر سکتی ہے۔
اس سے قبل سعودی وزارتِ سرمایہ کاری نے اعلان کیا تھا کہ یہ فورم دونوں ممالک کے سرکاری و نجی شعبوں کی شرکت سے منعقد ہو گا۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ شام میں سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے شامی حکام کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق اس دورے کے دوران دمشق کے نواحی علاقے میں سفید سیمنٹ کے ایک کارخانے کا افتتاح بھی کیا جائے گا۔
سعودی عرب شام کی معاشی بحالی میں مدد کے لیے پُرعزم ہے۔ رواں برس فروری میں شامی صدر احمد الشرع نے ریاض کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی۔
اس ملاقات میں توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں وسیع البنیاد مستقبل کے منصوبوں پر گفتگو ہوئی تھی۔ یہ بات شامی سرکاری میڈیا نے بتائی۔