غزہ مذاکرات کی ناکامی .... امریکہ اور اسرائیل کا حماس کے ساتھ الزامات کا تبادلہ

امریکی صدر نے اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ "حماس کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ وہ کسی بھی معاہدے میں دل چسپی نہیں رکھتی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

غزہ کے مذاکرات کی ناکامی پر ایک طرف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اور دوسری طرف حماس تنظیم کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے۔

آج جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات سے دست بردار ہونے کا تاثر دیا، جب کہ ایک روز قبل ہی دونوں نے اپنے وفود کو بات چیت سے واپس بلا لیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے آج الزام عائد کیا کہ حماس نہ تو جنگ بندی کا معاہدہ کرنا چاہتی ہے اور نہ قیدیوں کی رہائی کی کوئی سنجیدہ خواہش رکھتی ہے۔ انھوں نے روانگی سے قبل صحافیوں سے کہا "میرا خیال ہے کہ حماس مرنا چاہتی ہے، یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ حماس کو ختم کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ کسی بھی معاہدے کی پروا نہیں کرتی۔

ٹرمپ نے کہا کہ اب صرف چند قیدی بچے ہیں، اور حماس جانتی ہے کہ ان کی واپسی کے بعد کیا ہوگا، اسی لیے وہ کسی معاہدے پر آمادہ نہیں۔

دوسری جانب حماس کے سیاسی دفتر کے رکن باسم نعیم نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی منفی باتیں مذاکرات کے اصل ماحول کے خلاف تھیں اور وہ اسرائیلی موقف کی خدمت کے لیے کی گئی تھیں۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت غزہ سے قیدیوں کی واپسی اور حماس کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کے لیے "متبادل راستوں" پر غور کر رہی ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کو بے معنی قرار دیا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا "ماکروں اچھے آدمی ہیں، مجھے وہ پسند ہیں، لیکن ان کا بیان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔"

جمعرات کو امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم کو حماس کی نئی تجاویز کے بعد مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے جمعے سے غزہ میں امداد کی فضائی ترسیل کی اجازت دے دی ہے، جس میں عرب ممالک بھی شامل ہوں گے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے امداد کے داخلے سے انکار کے بعد کیا گیا ہے، کیونکہ امریکی مقامات سے امداد کی تقسیم رکی ہوئی تھی۔

ایک سیکیورٹی ذریعے نے تصدیق کی کہ یہ قدم سیاسی قیادت کی منظوری سے اٹھایا گیا ہے، اور اردن و متحدہ عرب امارات سب سے پہلے فضائی امداد فراہم کریں گے۔

ایک اعلیٰ اسرائیلی اہل کار نے انکشاف کیا کہ پچھلے ہفتے تین علاقائی ممالک کے ساتھ امداد کے فضائی آپریشن پر بات چیت ہوئی تھی، اور ان میں سے ایک ملک اب اس پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق یہ بات چیت تین ہفتے قبل شروع ہوئی تھی۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم OXFAM نے جمعرات کو خبردار کیا کہ غزہ میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں خوف ناک اضافہ ہو رہا ہے، جو "جان لیوا آفت" میں بدل سکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے امداد کی بندش کے باعث غزہ میں یرقان، پانی دار اسہال اور خون آلود اسہال جیسے امراض میں بالترتیب 101 فی صد، 150 فی صد اور 302 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

آکسفام کے مطابق بھوک، گندے پانی اور پناہ گاہوں اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ بیماریاں جلد جان لیوا بن سکتی ہیں۔

تنظیم نے یاد دہانی کروائی کہ اسرائیل نے 2 مارچ سے غزہ کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں کام کرنے والی امدادی تنظیموں کے پاس اب مزید سامان باقی نہیں بچا۔

اس کے مطابق یہ اعداد و شمار بھی بحران کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے، کیونکہ بیس لاکھ سے زیادہ کی آبادی والی غزہ کی پٹی میں زیادہ تر لوگ ان چند طبی مراکز تک رسائی نہیں رکھتے جو اب بھی کام کر رہے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے فوری انسانی اپیل کرتے ہوئے عالمی برادری اور امدادی اداروں سے جنگ بند کرانے، صحت کے نظام کو بچانے اور شہری حالات بہتر بنانے کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

غزہ اس وقت اپنی تاریخ کے بد ترین انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے ساتھ شدید قحط نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، اسپتالوں میں ادویات اور آلات کی قلت ہے، اور ان کی تشخیصی و علاجی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں