غزہ کے لوگوں کو کھانا کھلانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں: ٹرمپ

وٹکوف نے امریکی صدر کو غزہ کی انسانی صورتحال کی جامع تفصیل دینے کے مقصد سے 5 گھنٹے کا دورہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں لوگوں کو کھانا کھلانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی ویب سائٹ "ایکسیوس" سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ زندہ رہیں۔ ہم انہیں کھانا کھلانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

غزہ میں قحط کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس کا الزام حماس پر عائد کیا اور کہا کہ وہ امداد چوری کر کے اسے غزہ کے اندر دوبارہ بیچ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہیکابی نے جمعہ کو غزہ میں "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" کے زیر انتظام امدادی تقسیم کے مراکز کا دورہ کیا۔ اس ادارے کو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔

اسٹیو وِٹکوف اور مائیک ہکابی غزہ میں (درمیان) - اسرائیل میں امریکی سفیر کے ایکس اکائونٹ سے
اسٹیو وِٹکوف اور مائیک ہکابی غزہ میں (درمیان) - اسرائیل میں امریکی سفیر کے ایکس اکائونٹ سے

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے جمعرات کو کہا تھا کہ صدرٹرمپ وٹکوف کی واپسی پر ان کے دورے کے نتائج پر بریفنگ کے بعد غزہ کے لیے ایک نئے امدادی منصوبے کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

5 گھنٹے کا دورہ

وٹکوف نے کہا ہے کہ غزہ کے دورے کا مقصد صدر ٹرمپ کو انسانی صورتحال کی جامع تفصیل دینا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا فلسطینی پٹی کا دورہ 5 گھنٹے جاری رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد غزہ کا دورہ کر کے زمینی حقائق کا جائزہ لینا اور حالات کا تعین کرنا ہے۔ میں نے اسرائیلیوں کے ساتھ غزہ کی انسانی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

وٹکوف کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب نتن یاہو کی حکومت پر غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور امداد پر عائد پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

امداد کے متلاشیوں کا قتل

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعہ کو اعلان کیا کہ تباہ شدہ اور قحط کے خطرے سے دوچار غزہ کی پٹی میں امداد کے انتظار میں 27 مئی سے اب تک 1373 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مارے گئے۔

دفتر نے فلسطینی علاقوں کے لیے ایک بیان میں کہا کہ مجموعی طور پر 27 مئی سے اب تک کم از کم 1373 فلسطینی کھانا حاصل کرنے کی کوشش میں قتل ہوئے جن میں سے 859 ’’ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن ‘‘ کے ٹھکانوں کے قریب اور 514 خوراک کے قافلوں کے راستوں میں مارے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں اسرائیلی فوج نے کیں۔۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ ان علاقوں میں دیگر مسلح افراد موجود ہیں لیکن ہمارے پاس کوئی ایسی معلومات نہیں ہے جو ان ہلاکتوں میں ان کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرے۔ دفتر نے بتایا کہ 30 اور 31 جولائی کے درمیان دو دنوں میں شمالی غزہ میں زکیم کے علاقے، خان یونس کے جنوب میں موراگ کے علاقے اور وسطی غزہ و رفح میں ’’غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ کے ٹھکانوں کے قریب قافلوں کے راستوں پر 105 فلسطینی قتل اور کم از کم 680 کو زخمی کردیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر فائرنگ اور گولہ باری خوراک کے قافلوں کے راستوں اور ’’ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن ‘‘ کے ٹھکانوں کے قریب جاری رہی۔ یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ فوج نے 27 جولائی کو انسانی ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے مخصوص گھنٹوں کے لیے اپنی فوجی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دفتر نے مزید کہا کہ زیادہ تر متاثرین بظاہر نوجوان اور بچے ہیں۔

غزہ میں انسانی حقوق کے دفتر نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں ۔ اسے کوئی ایسی معلومات نہیں ملی جس سے یہ ظاہر ہو کہ متاثرین براہ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے تھے یا اسرائیلی سکیورٹی فورسز یا دیگر افراد کے لیے خطرہ تھے۔

"غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" کے مراکز پر فائرنگ

مئی میں "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" کے ٹھکانوں کے فعال ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج تقریباً روزانہ تقسیم کے مراکز کی طرف جانے والے راستوں پر موجود ہجوم پر فائرنگ کرتی ہے جو اسرائیلی فوجی علاقوں سے گزرتے ہیں اور سینکڑوں فلسطینیوں کو جاں بحق کر چکی ہے۔

دریں اثنا امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا باوجود اس کے کہ اسرائیلی فوج نے امدادی تقسیم کے مرکز میں شہریوں کو نقصان پہنچنے کا اعتراف کیا ہے۔ 170 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے جولائی کے آغاز میں مطالبہ کیا تھا کہ "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" کو فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ یہ شہریوں کو موت اور زخمی ہونے کے خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ اسرائیل نے 2 مارچ 2025 کو غزہ کی تمام گزرگاہیں بند کر دی تھیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ قحط کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

بین الاقوامی انسانی تنظیمیں بڑے پیمانے پر قحط کے خطرے سے خبردار کر رہی ہیں جب کہ امدادی کوششیں محدود ہیں اور پٹی کے بیشتر حصوں میں لاجسٹک اور سکیورٹی کی پابندیوں کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں