"غزہ پر قبضے" کے منصوبے کے حوالے سے نئی تفصیلات ... فوجی مہم 2026 تک جاری رہے گی

اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں وسیع فوجی مہم کے لیے تقریباً ایک لاکھ اضافی فوجیوں کی ضرورت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر اور وسطی علاقے پر قبضے کی تیاریوں کے سلسلے میں وسیع فوجی مہم کے لیے ایک لاکھ تک اضافی فوجیوں کو طلب کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اس بات کا انکشاف آج جمعرات کے روز "یدیعوت آحرونوت" اخبار نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کیا۔

اس منصوبے کی منظوری اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بدھ کو دی۔ اس کے تحت شمال میں غزہ شہر پر قبضہ اور وسطی غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں حماس کی تباہی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق آپریشن کے حتمی راستے سے متعلق مزید مشاورت آئندہ دنوں میں کی جائے گی اور اس مہم کے ذمے دار فوجی یونٹوں اور بریگیڈ کو آگاہ کیا جائے گا۔

غزہ میں اسرائیلی ٹینک (فائل فوٹو - فرانس پریس)
غزہ میں اسرائیلی ٹینک (فائل فوٹو - فرانس پریس)

شمالی حصے بھی

یہ مہم غزہ شہر میں خاص طور پر مغربی مضافات کی بلند علاقوں میں اور ساتھ ہی دیگر شمالی حصوں میں 2026 تک جاری رہے گی۔

زامیر نے گزشتہ ہفتے پوری غزہ کی پٹی پر مکمل کنٹرول کے حوالے سے خبردار کیا تھا، اس کی وجہ دستیاب فوجیوں کی کمی اور پہلے سے تعینات سپاہیوں میں تھکن کی بلند سطح بتائی گئی۔ تاہم حکومت نے خطرات کے باوجود اس منصوبے کی منظوری دے دی، البتہ اس پر عمل درآمد بتدریج ہو گا۔

فی الوقت اسرائیلی افواج محصور غزہ کی پٹی کے تقریباً 75 فی صد حصے پر قابض ہیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس جنگ کے دائرہ وسیع کرنے کے خطرات پر انتباہات میں اضافہ ہوا ہے، جو 2023 سے جاری ہے۔ اس دوران پورے غزہ میں غذائی قلت کے علاوہ طب، خوراک اور پانی کے وسائل کی شدید کمی اور اسپتالوں کی بگڑتی حالت بھی واضح طور پر عیاں کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں