پاکستان سے واپس آنے والے افغانیوں کی روزگار کے لیے قطر پہنچنے کی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کابل میں قائم حکومت کے قطر کے ساتھ کیے گئے معاہدے سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان سے واپس جانے والے افغانیوں میں غیر معمولی دلچسپی پائی جا رہی ہے۔

افغانستان کی وزارت محنت نے جمعرات کے روز بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' کو بتایا ہے کہ واپس آنے والے 8000 افغانیوں نے 1800 مختلف ملازمتوں کے لیے درخواستیں دی ہیں۔

یاد رہے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے مطابق 2023 سے اب تک پاکستان میں کئی دہائیاں گزارنے والے چالیس لاکھ افغانی واپس اپنے وطن کو جا چکے ہیں۔ مگر ان میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو ملازمت کے لیے خلیجی ممالک جلد سے جلد جا کر روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ افغانی مجبورا پاکستان اور ایران سے واپس وطن آئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا افغانستان کے بارے میں کہنا ہے کہ وہاں اس وقت شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ کیونکہ لاکھوں افغانیوں کے کئی سال بعد اچانک افغانستان پہنچنے سے ملازمتوں کے بد ترین بحران کی صورت حال ہے۔

افغان وزارت محنت و سماجی امور کے ترجمان سمیع اللہ ابراہیمی کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سے اب تک 8000 لوگوں نے قطر جانے کے لیے درخواستیں دی ہیں تاکہ وہ قطر جا کر ملازمت حاصل کر سکیں۔

اس سلسلے میں افغان حکومت نے کابل، ہرات، قندھار اور ننگرہار صوبوں میں ایسے لوگوں کا اندراج کرنا شروع کر رکھا ہے جو پاکستان و ایران سے واپس آئے ہیں اور روزگار کے بغیر ہیں یا روزگار کی خواہش رکھتے ہیں۔

ترجمان کی طرف سے کہا گیا ان افراد کو رجسٹریشن کے لیے 100 افغانی سکہ ادا کرنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ پچھلے دو برسوں کے دوران پاکستان یا ایران سے واپس پہنچے ہیں۔

یاد رہے 15 لاکھ کے قریب افغانی شہری اس سال پاکستان سے واپس افغانستان آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں