مشرقی یروشلم کے قریب آبادکاری کا اسرائیلی منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے:یواین
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی آبادی اور مشرقی یروشلم کے درمیان ہزاروں نئے مکانات کی تعمیر کا اسرائیلی منصوبہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے اور اس سے قریبی فلسطینیوں کو جبری بے دخلی کا خطرہ لاحق ہو گا جسے اس نے جنگی جرم قرار دیا ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزالل سماٹریچ نے جمعرات کو آباد کاری کے ایک دیرینہ منصوبے پر زور دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام فلسطینی ریاست کے تصور کو "دفن" کر دے گا۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے حقوق کے ترجمان نے کہا، یہ منصوبہ مغربی کنارے کو الگ تھلگ انکلیو میں تقسیم کر دے گا اور یہ کہ "قابض طاقت کے لیے اپنی شہری آبادی کو زیرِ قبضہ علاقے میں منتقل کرنا جنگی جرم ہے۔"
زیادہ تر عالمی طاقتوں کا خیال ہے کہ آبادکاری میں توسیع سے مستقبل کی آزاد ریاست کے طور پر فلسطینیوں کا مطلوبہ علاقہ تقسیم ہو جائے گا جس سے دو ریاستی حل کی عملداری ختم ہو جاتی ہے۔
اس علاقے کے بارے میں تاریخی اور بائبل کے اذکار کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کہتا ہے کہ یہ آبادیاں تزویراتی گہرائی اور تحفظ فراہم کرتی ہیں اور یہ کہ مغربی کنارہ "متنازعہ" ہے "مقبوضہ نہیں"۔