تل ابیب: اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کامطالبہ کرنے والےدرجنوں مظاہرین کو پولیس نے گرفتارکرلیا
اسرائیلی قیدیوں کی غزہ میں 22 ماہ سے زیادہ طویل ہوچکی قید کے دوران حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ ان کی رہائی کے لیے تل ابیب میں اسرائیلی شہریوں کا احتجاج اتوار کے روز بھی جاری ہے۔
یہ مظاہرین اپنے بیٹوں اور پیاروں کی رہائی کے لیے اسرائیلی ریاست سے لگاتار یہ مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ جنگ بندی کی جائے اور حماس سے معاہدہ کر کے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے۔
مظاہرین اپنے ان مطالبات کے ساتھ تل ابیب کی سڑکوں پر مارچ کرتے رہے۔ ان کے احتجاج کا مرکز تل ابیب کے اہم چوراہے رہے ۔
اتوار کے روز مظاہرین ایک بار پھر اسرائیلی قیدیوں کی فوری رہائی اور اسرائیلی ریاست کا غزہ میں جنگ کا نیا منصوبہ ترک کر کے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے نکلے تھے۔ جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے اسرائیلی پولیس نے واٹر کینن استعمال کیں اور درجنوں اسرائیلی مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا۔
اتوار کے روز مظاہرین نے ایک روزہ ہڑتال کی ابھی اپیل کر رکھی تھی۔
اسرائیلی ریاست کی غزہ میں جنگی رفتار اور شدت میں وسعت کے حالیہ منصوبے کے اعلان کے بعد اسرائیلی مظاہرین نے بھی اپنے پیراوں کی رہائی سے منصوبے کو متصادم دیکھتے ہوئے احتجاج میں شدت لانے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ہڑتال کے علاوہ مختلف مقامات پر سڑکوں پر ٹریفک کو مظاہرین نے رکاوٹ پیدا کر دی۔
اتوار کے دن کو جنگ روکنے کے مطالبے لیے ہر چیز روک دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس لیے اس دنو کو سب روک دینے کے دن کا نام دیا گیا تھا۔
چند روز قبل حماس کے عسکری ونگ اور ایک عسکری گروپ نے قیدیوں میں سے بعض کی تازہ ویڈیوز جاری کی تھیں۔ ان ویڈیوز سے معلوم ہوا کہ غزہ میں جاری قحط کی صورت حال میں اسرائیلی قیدی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یوں ویڈیوز کی وجہ سے اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ان قیدیوں کے اہل خانہ اور عوام سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست کی جنگی توسیع کے منصوبے نے اسرائیلی قیدیوں کی زندگیوں کو اور بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اس وقت غزہ میں لگ بھگ بیس اسرائیلی قیدی زندہ حالت میں ہیں اور تیس کی لاشوں کی باقیات عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے پاس ہیں۔
تل ابیب میں مظاہرین نعرے لگا رہے تھے ہمیں اپنے قیدیوں کی زندگیوں کے بدلے میں جنگ نہیں چاہیے۔
جنگ مخالف اسرائیلی مظاہرین راستوں میں وزیروں اور سیاسی رہنماؤں کے گھروں کے باہر اور فوجی ہیڈ کوارٹر کے باہر بھی جمع ہو کر نعرے لگاتے اور احتجاج کرتے رہے۔ علاوہ ازیں شہر کی اہم سڑکیں انہوں نے بلاک کیے رکھیں۔ کئی ہوٹلوں نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حق میں اور ان مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہوٹل بند کر دینے کی دھمکی دی ہے۔
علاوہ ازیں ان مظاہرین کے ہاتھ میں قحط کے مارے مظلوم فلسطینی بچوں کی تصاویر بھی نظر آئیں جوغزہ کی صورت حال کے بارے میں اسرائیل کے اندر سے ایک ایسی گواہی ہے جواسرائیلی ریاست کے خلاف جاتی ہے۔ اسرائیلی عوام کو خطرہ ہے کہ اسرائیلی ریاست نے قحط کا جو گڑھا فلسطینیوں کے لیے کھودا ہے اس میں ہمارے پیارے یعنی اسرائیلی قیدی بھی گر سکتے ہیں۔
ایک سابقہ قیدی جو غزہ سے رہائی پا چکا ہے وہ بھی اپنے ساتھی قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے موجود تھا۔ اس نے اس موقع پر کہا اسرائیلی ریاست کے فوجی دباؤ سے قیدیوں کی رہائی نہیں ہوتی اسرائیلی بمباری سے قیدیوں کی ہلاکت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ رہائی کا واحد راستہ جنگ بندی معاہدہ ہے۔ تاہم نیتن یاہو اور انتہا پسند یہودی جماعتوں کے رہنما جنگ بندی معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں۔
اسرائیلی پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے 38 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔ مظاہرے کا اہتمام قیدیوں کے لواحقین کی طرف سے کیا گیا تھا اور انہوں نے اعلان کیا تھا کہ آج ہر چیز کو روک دیں گے۔ اس لیے جگہ جگہ چوراہوں پر ٹریفک روکنے لیے غزہ کے اسرائیلی قیدیوں کی علامت اختیار چکے پیلے رنگ کی رسیوں کے ساتھ ٹریفک روکی گئی تھی۔
-
سعودی عرب سمیت عالمی برادری کا سیلابی تباہ کاریوں پر پاکستان سے اظہار ہمدردی
سعودی عرب نے حالیہ سیلاب اور موسلادھار بارشوں کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر حکومت ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کے چھ علاقوں میں کلاؤڈ سیڈنگ کی کارروائیاں
سعودی عرب کی فضاؤں میں 752 بار کلاؤڈ سیڈنگ کے لیے کی پروازیں کی گئیں
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں معذورنوجوانوں کی شمولیت اور معیارِزندگی بہتر بنانےکےلیےجامع پروگرام کاآغاز
سعودی عرب میں معذوری سے دوچار افراد کی بحالی کے پروگرام کےترجمان خالد خبرانی نے ...
مشرق وسطی