اقوامِ متحدہ میں لبنان میں تعینات امن فوج کے آئندہ انخلاء پر بحث

اگست کے آخر تک فوج کا مینڈیٹ ختم ہونے سے قبل ووٹنگ ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز فرانس کی مسودہ قرارداد پر بحث شروع کی کہ جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا قیام ایک سال تک بڑھا دیا جائے لیکن اس کا حتمی مقصد فوج کی دستبرداری ہو۔

اسرائیل اور امریکہ نے مبینہ طور پر فوج کے اختیار کی تجدید کرنے کی مخالفت کی ہے اور یہ واضح نہیں تھا کہ آیا مسودے کے متن کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے یا انہیں جسے کونسل میں ویٹو کا حق حاصل ہے۔

جیسا کہ لبنان اور اسرائیل کو الگ کرنے کے لیے 1978 سے تعینات اقوامِ متحدہ کی عبوری افواج کی تقدیر پر بات چیت جاری رہی تو امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا، "ہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے جاری مذاکرات پر تبصرہ نہیں کرتے۔"

قرارداد کا متن "امن فوج کے مینڈیٹ میں 31 اگست 2026 تک توسیع کرے گا" لیکن "اس کی واپسی پر کام کرنے کے ارادے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔" اس متن کی سب سے پہلے اطلاع رائٹرز نے دی۔

یہ اس شرط پر ہو گا کہ لبنان کی حکومت "جنوبی لبنان میں سکیورٹی کی واحد فراہم کنندہ ہو اور یہ کہ فریقین ایک جامع سیاسی بندوبست پر متفق ہوں۔"

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے تحت بیروت کی فوج جنوبی لبنان میں تعینات ہے اور وہاں حزب اللہ کا بنیادی ڈھانچے ختم کر رہی ہے۔ معاہدے کے باوجود اسرائیلی افواج بدستور لبنان کے بعض مقامات پر تعینات ہیں اور ان کا اقوامِ متحدہ کی امن فوج سے سخت مقابلہ ہوا ہے۔

لبنان کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا کانٹے دار مسئلہ درپیش ہے اور اس مہینے کایینہ نے فوج کو سال کے آخر تک یہ کام مکمل کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

زیرِ بحث قرارداد کے مسودے میں "لبنان اور اسرائیل کے درمیان بین الاقوامی سرحد سے متعلق کسی بھی تنازعے یا خدشات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں اضافہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔"

اس ماہ کے آخر میں امن فوج کے مینڈیٹ کی میعاد ختم ہو رہی ہے تو 15 رکنی کونسل کے ارکان 25 اگست کو ووٹنگ سے قبل مسودہ قرارداد پر بحث کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں