غزہ کا قتلِ عام فلسطینیوں کے لیے ایک پیغام ہے: سابق سربراہ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس

انہیں ہر تھوڑے عرصے بعد نقبہ کی ضرورت ہوتی ہے: اہارون ہلیوا کا قابلِ مذمت بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کے سابق فوجی انٹیلی جنس سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں دسیوں ہزار فلسطینیوں کی ہلاکتیں "آئندہ نسلوں کے لیے ایک پیغام کے طور پر" ضروری تھیں۔

اسرائیل کے چینل 12 سے نشر کردہ ایک آڈیو میں اہارون ہلیوا کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے زیرِ قیادت حملے میں ہلاک شدہ ہر ایک اسرائیلی کے بدلے 50 فلسطینیوں کو مرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، "اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بچے ہیں۔ کوئی چارہ نہیں ہے، نتائج کو محسوس کرنے کے لیے انہیں وقتاً فوقتاً نقبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔"

نقبہ سے مراد 1948 کی وہ "تباہ کن نقلِ مکانی" ہے جب اسرائیلی ریاست کی بنیاد رکھنے کے دوران لاکھوں فلسطینی اپنے گھر بار اور زمین چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

سات اکتوبر کے حملے روکنے میں انٹیلی جنس کی ناکامیوں پر گذشتہ سال استعفیٰ دے دینے والے ہلیوا کو آڈیو میں غزہ کی تباہ کن ہلاکتوں کا جواز پیش کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے جو انہوں نے 50,000 بتائیں۔

غزہ کے محکمہ صحت کے عہدیداروں نے پیر کو بتایا کہ ہلیوا کے بیان کردہ اعداد و شمار مارچ تک کے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تبصرے کئی ماہ پرانے ہیں جبکہ اس وقت ہلاک شدگان کی تعداد 62,000 سے زیادہ ہے۔

ہلیوا کے تبصرے غزہ میں خونریزی کی حقیقی سطح کے حوالے سے ایک سینئر اسرائیلی شخصیت کا ایک نادر اعتراف ہیں۔ حتیٰ کہ اگر اس سال کے شروع میں ہونے والا یہ اسرائیلی دعویٰ درست تھا کہ اس نے علاقے میں 20,000 مزاحمت کار ہلاک کیے تب بھی اس کا مطلب ہے کہ ہلیوا اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ متأثرین کی اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

انہیں بدستور اسرائیلی سیاسی میدان میں اعتدال پسند سمجھا جاتا ہے جہاں اب سینئر وزارتی عہدوں پر بیزالیل سموٹریچ اور اتمار بین گویر جیسی سخت گیر شخصیات کا غلبہ ہے۔

ان تبصروں پر فلسطینیوں اور انسانی حقوق کے اسرائیلی گروپوں میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔

"ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اہارون ہلیوا کے تبصرے سرکاری بیانات کے ایک طویل سلسلے کا حصہ ہیں جو نسل کشی کی دانستہ پالیسی کو بے نقاب کرتے ہیں،" بتسلیم نے ایکس پر کہا۔

چینل 12 کو دیے گئے ایک بیان میں ہلیوا نے کہا کہ ان کے تبصروں کی آڈیو ریکارڈنگز ایک "فورم سیٹنگ" سے آئی ہیں۔

ریکارڈنگ میں انہوں نے سات اکتوبر کا حملہ روکنے میں انٹیلی جنس کی ناکامیوں پر بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے یہی تزویری مفروضہ قائم تھا کہ حماس اتنی وسیع کارروائی کرنے کے قابل نہ تھی۔ اس کے بعد حملے کی صبح جو کچھ ہوا، وہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

ہلیوا نے کہا کہ فوج کے ہمراہ داخلی سلامتی سروس شِن بیٹ کو بھی اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں