اسرائیلی ریاست نے غزہ میں نئے جنگی منصوبے پر عمل شروع کر دیا : فوجی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی ریاست نے اپنے فوجی ترجمان کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ اس نے بدھ کے روز سے غزہ میں مکمل قبضے کے لیے تیار کردہ نئے جنگی منصوبے پر عمل کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

اس سلسلے میں فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے کہا ہے قبضے کے لیے اقدامات کا پہلا مرحلہ شروع کر دیا ہے اور غزہ شہر پر ہمارا کنٹرول ہو گیا ہے۔

ترجمان نے کہا ہزاروں ریزرو فوجیوں کو اسرائیلی ریاست نے اس جنگی ضرورت کے لیے بلایا ہے تاہم ستمبر تک یہ نئے' ریزروسٹ ' رپورٹ نہیں کریں گے کیونکہ ہم مذاکرات والوں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تقریبآ دو سال ہو رہے ہیں تاہم ابھی اسرائیلی ریاست اپنے اعلان کردہ تین اہم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکی
ان میں حماس کا عسکری و حکومتی خاتمہ، اسرائیلی قیدیوں کی غزہ سے رہائی اور غزہ سے اسرائیلی ریاست کو کسی بھی خطرے سے محفوظ بنانا شامل تھے۔

اس لیے ایک بار پھر اسرائیلی ریاست نے اپنی پوری فوجی قوت غزہ میں جھونکنے کا اعلان کیا ہے تاکہ حماس کی ۔زاحمت ختم کی جاسکے۔ نئے جنگی منصوبے کا اعلان اسی ماہ کیا گیا تھا اور اب بدھ کے روز سے فوجی ترجمان کے مطابق اس پر عمل شروع ہو گیا یے۔

غزہ کی پٹی پر حماس کے عسکری ونگ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپ کے بدھ کے روز وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ غزہ پر کنٹرول کرنے کے لیے جنگی ٹائم لائن تیز کر دی گئی ہے

اسرائیلی ریاست کی شروع سے کوشش ہے کہ حماس کے مضبوط مراکز کا خاتمہ کرے اور مزاحمت کو کچلے دے مگر بدھ کے روز بھی جھڑپ بتاتی ہے کہ مسلح مزاحمت جاری ہے۔

فوج کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ شہر کے مضافات میں پہلے ہی جنگ میں مصروف ہے ۔ جبکہ حماس اب تباہ حال گوریلا فورس ہے جو زخموں کے ساتھ لڑ رہی ہے ۔

اس لیے ہم نے ہم غزہ شہر میں حماس پر حملے کو مزید گہرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ علاقہ دہشت گردی کا ایک اہم مرکز ہے جسے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

خیال رہے اسرائیلی ریاست نے بدھ کے روز غزہ شہر پر نئے حملوں کے لیے ہزاروں ' ریزرو' فوجیوں کو طلب کر لیا ہے۔ کو طلب کیا، اگرچہ اس وقت جنگ بندی کی نئی تجویز پر غور بھی قاہرہ میں ط جاری ہے۔

دوسری جانب حماس نے ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ بندی مذاکرات کا ناکام بنانے کی سازش کر رہے ہیں۔ اس لیے غزہ کے معصوم شہریوں پر جنگ کا نیا سلسلہ زیادہ شدت سے شروع کیا ہے۔

یاد رہے نیتن یاہو کے زیر صدارت اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے اس ماہ غزہ میں مہم کو وسعت دینے کے لیے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی تاکہ غزہ شہر کو اپنے کنٹرول میں لے سکے ۔

اسی علاقے میں اسرائیلی فوج نے جنگ شروع کرتے ہوئے حماس کے نام پر شدید بمباریاں شروع کی تھی۔جس سے ہزاروں فلسطینی اب تک اس علاقے میں بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا غزہ کے 75 فیصد حصے پر قبضہ ہو چکا ہے۔

دنیا بھر سے اسرائیلی ریاست کے اس نئے شدید تر اور وسیع تر جنگی منصوبے کی مذمت کی گئی ہے۔ حتی کہ اسرائیلی ریاست کے اتحادی ملکوں نے بھی اس منصوبے پر تنقید کی یے۔

کہ پہلے ہی اسرائیلی ریاست باسٹھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو جنگ میں قتل کر چکی ہے جبکہ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران بھوک اور قحط کے اسرائیلی ہتھیار سے بھی سینکڑوں فلسطینی ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

مگر اسرائیلی ریاست نے بین الاقوامی برادری کی آواز سننے کے بجائے ایک طرف غزہ کو نئے جنگی منصوبے سے تباہ کرنے کا عمل دہرانا شروع کر دیا تو دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بسیوں کی تعمیرات کے منصوبے کی بھی بدھ کے روز ہی حتمی منظوری دی ہے۔

یہ اسرائیلی ریاست کا کام اس وقت سامنے آ رہا ہے جب اسرائیلی عوام سڑکوں پر نکل کر جنگ بندی کا مطالبہ کررہے ہیں اور کئی مسلم ملک اسرائیلی ریاست کو بھی تسلیم کرنے کا عندیہ دے رہے ییں۔

مگر صرف ایک دن میں اسرائیلی ریاست نے تین اہم جنگی نوعیت یا جنگی بنیادوں پر منصوبوں کے سلسلے میں پیش رفت کی ہے۔ غزہ میں نئے جنگی منصوبے کے لیے جنگی اقدامات شروع کیے ہیں۔ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا اعلان کر کے فلسطینی ریاست کا خواب چکنا چور کر دیا اور ذرا دوری پر موجود ملکوں کو فضائی جنگ کی لپیٹ میں لینے لیے ' ری فیولنگ سسٹم ' میں بڑھاوے کی غرض سے امریکہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں