لکڑی کے فن پاروں کا شوقین سعودی جس کے مشغلے نے اسے پی ایچ ڈی ڈاکٹر بنا دیا
تین دہائیوں سے لکڑی کے فن میں مہارت حاصل کرنے والے سعودی فنکار کی کہانی
سعودی عرب کے علاقے القصیم کے ایک کھیت میں ڈاکٹر عبداللہ الفرج اپنے شوقیہ مشغلے میں مصروف ہیں، جس کا آغاز انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد کیا۔ وہ درختوں کی ٹوٹی شاخوں کو جدید فن پاروں میں ڈھالنے کا نہ صرف ہنر جانتے ہیں بلکہ انہوں نے اس فن کو سعودی ثقافت اور ورثے کا نیا آرٹ بنا دیا۔
ڈاکٹر الفرج کا یہ شوق حالیہ نہیں بلکہ تین دہائیوں سے ان کے ساتھ ہے۔ اس دوران انہوں نے علم اور ہنر کو ملا کر منفرد اور نفیس فن پارے تخلیق کیے۔
انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "میری فنکارانہ شروعات بہت پرانی ہیں۔ میں پرائمری سکول کے دور میں اپنے دوستوں اور کھیتوں میں کام کرنے والے بچوں کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتا تھا۔ لکڑیاں اٹھانا اور کھیتی باڑی کرنا میرے شوق کی ابتدا تھی جو آج تک جاری ہے"۔
من بين أخشاب مزارع #القصيم..
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) August 23, 2025
الدكتور عبدالله الفرج يروي تفاصيل شغف دام أكثر من 3 عقود في تحويل الخشب إلى تحف فنية
عبر :@al3mri009 pic.twitter.com/d2hbbzaSYN
36 سال لکڑی کی نقاشی میں تجربہ
ڈاکٹر الفرج نے لکڑی کی نقاشی میں 36 سال گزارے۔ وہ والد کی سخت مزاجی کو یاد کرتے ہیں جو کھیتوں میں کام کرنے کے تجربے سے اور مضبوط ہوئی تھی۔ والد کے مزاج کا ان کی طبیعت پر گہرا اثر پڑا اور ان کے فن پر بھی اس کے گہرے نقوش مرتب ہوئے۔
تعلیمی سفر
انہوں نے بتایا کہ"والد کی سخت مزاجی کی وجہ سے میں چاہتا تھا کہ سکول جلد ختم ہو جائے۔ والد اکثر کہتے تھے کہ 'اگر ہاتھ نے نافرمانی کی تو میں اسے کاٹ دوں گا'۔ مڈل سکول کے بعد میں کھیتوں میں کام کرنے سے انکار کر کے ریاض کے ایک ادارے میں تعلیم جاری رکھی"۔
کھیتوں سے ڈاکٹر کے فن تک
ڈاکٹر الفرج جہاں بھی گئے اپنا فن کارانہ شوق برقرار رکھا۔ یہی شوق انہیں اطلاقی فنون میں ڈاکٹریٹ تک لے گیا، جس میں مٹی کے برتن، کپڑا، لکڑی کی نقاشی اور مصوری شامل ہیں۔
فن میں مکمل انہماک
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے فنون کو مکمل وقت دیا۔ سب سے بڑی لکڑی کی تخلیق جس پر انہوں نے کام کیا ایک کلاسیکی دروازے کی شکل میں تھی، جس میں خلیج میں استعمال ہونے والے تمام دروازوں کے نمونے شامل کیے گئے۔ ایک اور تخلیق میں انہوں نے سعودی علاقوں کی عمارتوں کے طرزِ