محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کے سینئر عہدے داران کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق 80 فلسطینی عہدے داران کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں
امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ستمبر میں نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس فیصلے کے تحت صدر عباس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے 80 کے قریب دیگر اعلیٰ عہدے دار بھی شامل ہیں جن پر یہ قدغن عائد کی گئی ہے۔ یہ اطلاع ایک صحافی نے دی جس نے اسے امریکی ویب سائٹ "axios" کے حوالے سے بیان کیا۔
امریکی وزارتِ خارجہ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنرل اسمبلی سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے متعدد ارکان کو دیے گئے ویزے منسوخ کرنے اور نئے ویزے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے قبل فلسطینی ریاست کو با ضابطہ تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکی بیان میں مزید کہا گیا کہ واشنگٹن فلسطینی عہدے داروں کو نیویارک میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے بھی ویزے فراہم نہیں کرے گا جو دو ریاستی حل پر مرکوز ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی جنگ چھیڑنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کا سہارا لینے سے باز رہے۔ اس لیے کہ عالمی فوجداری عدالت اور عالمی عدالتِ انصاف میں اپیلیں کرنے اور یک طرفہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کی کوششیں امن مذاکرات کو کمزور کر رہی ہیں۔ واشنگٹن کے مطابق، ان اقدامات کے نتیجے میں حماس نے یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے۔
A State Department official said Palestinian President Mahmoud Abbas will not be allowed to arrive in New York for the UN general assembly in September. “Abbas is affected by this action along with approximately 80 other PA officials", the State Department official said https://t.co/GRUbXw4cqf
— Barak Ravid (@BarakRavid) August 29, 2025
فلسطینی صدارت نے اس فیصلے پر سخت افسوس اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے منافی ہے اور اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے متعلق معاہدے کے بھی خلاف ہے۔ فلسطینی قیادت نے وضاحت کی کہ فلسطین اقوامِ متحدہ میں مبصر ریاست کا درجہ رکھتا ہے، اس لیے فلسطینی وفد کو جنرل اسمبلی میں شرکت سے روکنا غیر قانونی ہے۔
صدارت نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور فلسطینی وفد کو نیویارک میں داخلے کی اجازت دے تاکہ وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہو سکے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا" نے اطلاع دی ہے کہ قیادت نے ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین اور عالمی قراردادوں پر عمل درآمد کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر محمود عباس جن کی عمر 89 برس ہے، جنرل اسمبلی میں خطاب کے لیے آ رہے تھے۔ منصور نے کہا کہ ہم دیکھیں گے یہ فیصلہ عملی طور پر ہمارے وفد پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اور پھر اس کے مطابق رد عمل دیں گے۔ اسی دوران، اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوژارک نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ تمام ممالک اور مبصرین، جن میں فلسطینی بھی شامل ہیں، جنرل اسمبلی سے قبل ہونے والے سربراہی اجلاس میں موجود ہوں۔
Today the Trump Administration is announcing it will deny and revoke visas from members of the Palestine Liberation Organization (PLO) and the Palestinian Authority (PA) ahead of the upcoming UN General Assembly per U.S. law.
— Tommy Pigott (@StateDeputySpox) August 29, 2025
Before we take them seriously as partners in…
اسرائیل نے امریکی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک جرات مندانہ اقدام قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے سماجی پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا کہ امریکا نے بالکل درست قدم اٹھایا ہے اور فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کو ان کے اعمال پر جواب دہ ٹھہرایا ہے۔
ان کے مطابق، فلسطینی قیادت نہ صرف دہشت گردوں کو انعام دیتی ہے بلکہ نفرت انگیزی کو ہوا دیتی ہے اور اسرائیل کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ جرات مندانہ اقدام کیا۔
امریکا اور اسرائیل دونوں کا موقف ہے کہ فرانس اور دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان دراصل حماس کے لیے انعام کے مترادف ہے۔ تاہم فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں جو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے سخت نالاں ہیں، سمجھتے ہیں کہ اب امن عمل کو آگے بڑھانے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔
اسی مقصد کے تحت انھوں نے 22 ستمبر کو ایک خصوصی سربراہی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہے۔ یہ اجلاس جنرل اسمبلی کے آغاز سے ایک روز قبل ہو گا اور اس کے بعد فرانس مغرب کی نمایاں ریاستوں میں سے پہلا ملک ہو گا جو فلسطینی ریاست کو با ضابطہ تسلیم کرے گا۔
فرانس کے اعلان کے بعد کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا، جب کہ برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی پر متفق نہ ہوا تو لندن بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔
اس سے قبل جولائی کے آخر میں نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں ایک بین الاقوامی وزارتی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں فلسطینی مسئلے کے پر امن حل اور دو ریاستی فارمولے پر بات کی گئی۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس کانفرنس کے اختتامی اعلامیے کی منظوری دی جس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تجدید کی گئی جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو گا اور جو 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو گی۔
-
اسرائیل پورے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے: فلسطینی مندوب
تل ابیب نے ایک بستی کی منظوری دی جو مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال کو جنوب سے الگ کر ...
مشرق وسطی -
دو ریاستی حل کانفرنس سے قبل امریکہ کا اقدام، فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کردیے
یہ فیصلہ ایک بہادرانہ اقدام ہے: اسرائیل، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، فیصلہ ...
مشرق وسطی -
غزہ شہر پر حملہ جبری ہجرت کا آغاز ہے : فلسطینی صدر کے مشیر کی العربیہ سے گفتگو
فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر ڈاکٹر محمود الہباش نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ...
مشرق وسطی