نیتن یاھو کا غزہ میں قید اسرائیلی خاتون عیدان شٹیوی کی لاش برآمد کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نےاعلان کیا کہ غزہ سے حماس کے ہاتھوں قید کی گئی خاتون عیدان شٹیوی کی لاش بازیاب کر لی گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اب بھی 48 قیدی موجود ہیں، جن میں سے صرف 20 کو زندہ ہونے کا امکان ہے۔
"قیدیوں کی بازیابی کی مہم جاری"
نیتن یاھو نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ قیدیوں کی بازیابی کی مہم تعطل جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فوج نے غزہ سے دو لاشیں بازیاب کی ہیں اور ایک کی شناخت کے لیے کام جاری ہے۔
نیتن یاھو کے مطابق فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے’ شاباک‘ نے مشترکہ کارروائی میں قیدی ایلان وائز کی لاش بھی بازیاب کی، جو حماس کے قبضے میں تھی۔
اس کارروائی کے دوران ایک اور ہلاک یرغمالی کی ذاتی اشیاء اور نمونے بھی بازیاب کیے گئے ہیں، جن کی شناخت کے لیے ابھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
حکومت پر دباؤ
نیتن یاھو کی حکومت پر غزہ میں جاری جنگ ختم کرنے کے لیے بڑھتا ہوا دباؤ ہے،جو 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حملے کے بعد شروع ہوئی۔
اب تک حکومت قطری اور مصری ثالث کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز پر کوئی جواب نہیں دے سکی، جسے حماس نے قبول کیا تھا۔ یہ تجویز 60 دن کی ابتدائی جنگ بندی اور قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی کے بدلے اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر مبنی تھی۔ تاہم حکومت نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کے مکمل کنٹرول اور حماس کی شکست تک کارروائی جاری رکھے گی۔