ولید بن طلال " الہلال کلب" کی ملکیت کے لیے سنجیدہ مذاکرات کررہے ہیں: ذرائع
سعودی سرمایہ کاری میں نئے اقدامات اور کھیلوں کی نجکاری
بلومبرغ کے مطابق سعودی ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال الهلال کلب میں اکثریتی حصے کی خریداری کے لیے جنرل انویسمنٹ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ اقدام سعودی فٹبال سیکٹر میں نجکاری کی سب سے نمایاں کوششوں میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بلومبرگ نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شہزادہ الولید بن طلال جنرل انویسمنٹ فنڈ سے ا لہلال کلب میں 75 فیصد حصے کی خریداری کے سلسلے میں بات چیت کر رہے ہیں۔
العربیہ بزنس کو موصول رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور کسی ممکنہ ڈیل کی مالیت کا تعین نہیں ہوا، اور مذاکرات ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔
ایک اور ذریعے نے مزید کہا کہ الھلال کلب کا باقی 25 فیصد حصہ ایک غیر منافع بخش سعودی تنظیم کے پاس ہے، جس کا زیادہ تر مالی تعاون ولید بن طلال سے آتا ہے۔
دو ہفتے قبل سعودی وزارت کھیل نے مرکز قومی نجکاری کے تعاون سے، النجمہ کلب اور الاخدود کلب کی خریداری کے لیے درخواست اور دلچسپی کے مراحل کا آغاز کیا تھا۔ یہ منصوبہ نجی شعبے کی شرکت کو بڑھانے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق کھیلوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ اقدامات جولائی میں اعلان شدہ منصوبے کا تسلسل ہیں، جس میں سعودی کھیلوں کے کسی بھی کلب کی خریداری کے خواہاں سرمایہ کاروں سے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔
اس سال جولائی میں سعودی عرب نے پہلی بار کسی مقامی فٹبال ٹیم میں غیر ملکی سرمایہ کاری دیکھی، جب ہاربرگ گروپ نے الخلودکلب خرید لیا۔ اس ڈیل کی قیمت ظاہر نہیں کی گئی۔
الہلال کا مرکز ریاض ہے اور یہ فٹ بال کلب سعودی فٹبال کے سب سے معتبر کلبوں میں شمار ہوتا ہے ۔ کئی ملکی اعزازات جیت چکا ہے۔ یہ ان 4 کلبوں میں شامل ہے جن میں جنرل انویسمنٹ فنڈ کی حصہ داری ہے.
-
فٹبال کا ورلڈ سٹار رونالڈو سعودی عرب کی فروغ سیاحت مہم میں بھی شامل
فٹبال کی دنیا کے سپر سٹار رونالڈو اب سعودی عرب کی فروغ سیاحت مہم کے لیے بھی اہم ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں سب سے زیادہ ضائع ہونے والی غذائی اشیا میں چاول، روٹی اور سبزیاں سرفہرست
الفارس نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں کہا کہ "ہمیں گزشتہ مراحل کے مقابلے میں ...
مشرق وسطی -
ریاض سرفہرست: سعودی عرب کے چار شہر فش فارمنگ کے منصوبوں میں سب سے نمایاں
سعودی دارالحکومت ریاض جو ساحلی علاقہ نہیں ہے اور اس کا موسم بھی صحرائی ہے، اس کے ...
بين الاقوامى