اسرائیل جارحیت کو " اپنے دفاع " کا بہانہ بنا کر خطے کے ممالک کوپامال کر رہا ہے:ایرانی صدر
دوحہ میں عرب و اسلامی سربراہی اجلاس، قطر پر اسرائیلی حملے پر سخت ردعمل
ایران کے صدر مسعود بزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل "سیلف ڈیفنس" کے نام پر اپنی جارحیت کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے دوحہ میں عرب و اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین میں دوہرے معیار نے اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نسلی تطہیر جیسے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب اور اسلامی ممالک کو متحد ہو کر اسرائیل کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
عرب و اسلامی سربراہی اجلاس پیر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوا، جس میں کئی ممالک کے سربراہان اور قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد قطر کی سرزمین پر اسرائیلی حملے کے خلاف مشترکہ ردعمل مرتب کرنا ہے۔
افتتاحی اجلاس میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ "دوحہ پر بزدلانہ حملہ کیا گیا، جس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس جارحیت میں قطری شہری بھی جاں بحق ہوا"۔ انہوں نے اسے "بزدلانہ دہشت گردی" قرار دیا۔ شیخ تمیم نے کہا کہ قطر گزشتہ دو برس سے غزہ میں نسل کشی کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔
امیر قطر نے مزید کہا کہ "اسرائیل کے لیے مذاکرات جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، موجودہ اسرائیلی حکومت یرغمالیوں کی رہائی نہیں چاہتی بلکہ اس جنگ کو بستیوں کے پھیلاؤ اور حقائق بدلنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔" انہوں نے کہا کہ "بنجمن نیتن یاھو خواب دیکھ رہا ہے کہ عرب دنیا کو اسرائیل کے زیرِ اثر لایا جائے"۔
الشیخ تمیم کے مطابق اسرائیل غزہ میں نسل کشی کی جنگ کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں، جبکہ حماس جنگ بندی کی تجاویز پر غور کر رہی تھی"۔
اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ان کی آزاد ریاست کے قیام کی حمایت پر زور دیا۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ "قطر پر اسرائیلی جارحیت ہر حد پار کر چکی ہے"۔
سربراہی اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ اور 57 عرب و اسلامی ممالک کے نمائندوں نے ایک اجلاس میں شرکت کی، جس میں اسرائیلی حملے پر مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا۔ یہ حملہ منگل کو دوحہ میں حماس کے متعدد رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر کیا گیا تھا۔
قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اس موقع پر عالمی برادری سے اسرائیل کو خطے میں س کے جرائم پر سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی ثالثی کوششیں جاری رکھے گا۔
منگل کو اسرائیل نے دوحہ کے ایک رہائشی علاقے پر بمباری کی جس میں 6 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک قطری سکیورٹی افسر بھی شامل تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں حماس رہنما خلیل الحیہ کے صاحبزادے اور ان کے دفتر کے عملے کے سربراہ بھی شامل تھے۔ حماس نے تصدیق کی کہ اس کے اعلیٰ رہنما اس حملے میں بال بال بچے۔
اسرائیلی حملے نے دنیا بھر میں مذمت کی لہر دوڑا دی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی غیر معمولی تنقید سامنے آئی۔ ٹرمپ نے قطر کو امریکہ کا اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اسرائیل کو حماس سے نمٹنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اسے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس کو نشانہ بناتا ہے۔
قطر، مصر اور امریکہ اس وقت اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
-
ایران کے بارے میں پالیسی بدلی جائے: تہران کا جی سیون پر ردعمل
ایرانی سلامتی کونسل کا انتباہ، دشمنی کی صورت میں ایٹمی تعاون معطل ہوگا
مشرق وسطی -
قطر پر اسرائیلی حملے پر ہنگامی اجلاس، دوحہ میں عرب و اسلامی سربراہی اجلاس آج ہوگا
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کا دوحہ پر حملہ بزدلانہ کارروائی ہے:امیرقطر
قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے دارالحکومت دوحہ ...
مشرق وسطی