قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے دنیا بھر کے ملکوں اور حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'دوہرے معیار اور دوغلے پن کو چھوڑ کر اسرائیلی ریاست کو اس کے جرائم کی عملی طور پر سزا دی جائے۔'
وہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی برادری کے عمومی اور کمزور چلن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات کر رہے تھے۔ جس میں اسرائیل کو صرف تنقید اور مذمت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کی گفتگو کے براہ راست مخاطب عرب اور اسلامی دنیا کے رہنما تھے۔ جن کے سامنے وہ خطاب کر رہے تھے اور عرب و اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس کے سلسلے میں اجلاس منعقد تھا۔
عرب اسلامی سربراہ کانفرنس کا اجلاس آج پیر کے روز قطر پر اسرائیلی ریاست کی حالیہ جارحانہ بمباری اور قطر کی خودمختاری پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر میں منعقد کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے امریکی افواج کے زیر حفاظت قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اس وقت حملہ کیا جب حماس کے سیاسی بیورو کے سینیئر عہدیدار اور مرکرزی قائدین امریکی صدر ٹرمپ کی اس تجویز کی مثبت انداز میں منظوری کے لیے مشاورت کرنے جمع ہوئے تھے۔
اسرائیل کے ان جنگی طیاروں کو روکنے کے لیے فضائی دفاع کا قطری نظام غیر مؤثر ثابت ہوا۔
وزیراعظم قطر نے کہا اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل کے حوالے سے اپنے دوغلے پن کو چھوڑے اور اسرائیل کی طرف سے کیے گئے جرائم کی اسے سزا دے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اب یہ ضرورت ہے کہ وہ جانے کہ ہمارے فلسطینی بھائیوں کے خلاف اس کی جنگ قابل قبول نہیں جو اس نے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے محروم کرنے کے لیے شروع کر رکھی ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ قطر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مصر و امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
خیال رہے قطر خطے میں امریکی افواج کے سب سے بڑے اڈے کا میزبان ملک ہے۔ نیز غزہ جنگ بندی کے حوالے سے وہ ایک کلیدی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم اسرائیلی ریاست کی فوج نے منگل کے روز اسی کو نشانہ بنا ڈالا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ پیر کے روز ہونے والی عرب اسلامی سربراہ کانفرنس اسرائیل کے دوحہ پر حملے کے خلاف قرارداد پر غور کرے گی۔
یہ قرارداد اتوار کے روز ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تیار کی گئی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا عرب و اسلامی ملکوں کی یہ ہنگامی سربراہ کانفرنس قطر کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کے لیے ہے۔ تاکہ اسرائیل کی بزدلانہ جارحیت کی مذمت کی جا سکے اور اسرائیلی ریاستی دہشتگردی کو مسترد کیا جا سکے۔
حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ایک رکن باسم نعیم نے عرب و اسلامی سربراہ کانفرنس کے حوالے سے توقع ظاہر کی ہے کہ ہم امید کر سکتے ہیں کہ یہ سربراہ کانفرنس مسلمانوں کے اتحاد کو ظاہر کرے گی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن ثابت ہوگی۔
نیز اسرائیل کے بارے میں ایک واضح پوزیشن لی جا سکے گی اور متعین اقدامات پر بھی فیصلہ کیا جائے گا تاکہ اسرائیلی جارحیت کو آنے والے دنوں میں روکا جا سکے۔