غزہ جنگ کے دو سال مکمل ہونے کے قریب کچھ زخمی اور بیمار فلسطینی بچے اسرائیلی ریاست کے زیر محاصرہ غزہ سے لندن کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ تاہم ان کی فلائٹ کب اور کہاں سے روانہ ہوئی اس انفارمیشن کو برطانوی حکام نے خفیہ رکھاہے۔ تاکہ ان بچوں کی دوران سفر سکیورٹی کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو سکے۔
اسرائیلی ریاست نے غزہ جنگ میں ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت فلسطینی بچوں اور عورتوں کو بطور خاص نشانہ بنایا ہے۔ اسی وجہ سے اب تک قتل کیے جاچکے لگ بھگ 65 ہزار فلسطینیوں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ نیز غزہ جنگ میں اب تک زخمی اور معذور ہوجانے والے افراد میں بھی بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
برطانیہ نے اسرائیل سے قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ہزاروں زخمی بچوں میں سے کچھ کو اتوار کے روز اپنے ہاں لانے کا اہتمام کیا ہے۔تاکہ یہ بچے برطانیہ میں ممکنہ طور پر اپنا علاج معالجہ کرا سکیں۔کیونکہ غزہ میں اسرائیلی ریاست کی بمباری اور اس کے اتحادیوں کے فراہم کردہ بموں و دیگر ہتھیاروں کی بدولت شاید ہی کوئی ہسپتال مکمل محفوظ رہ کر علاج کرنے کی حالت میں رہ گیا ہو۔
نیز اسرائیلی ریاست کی ایک دوسری پالیسی کے تحت غزہ کے مسلسل جاری محاصرے اور ناکہ بندی کے باعث جہاں ادویات اور طبی آلات سمیت ایندھن کا ہسپتالوں تک پہنچنا غیر ممکن بنا دیا گیا ہے، وہیں ان زخمی فلسطینیوں کی ہسپتالوں تک رسائی پہلے ہی تقریبا ناممکن بنائی جا چکی ہے۔ علاوہ ازیں طبی عملے کے ارکان سمیت 700 سے زائد ڈاکٹروں کو بھی اسرائیلی ریاست کی جنگی پالیسی کے تحت چن چن کر قتل کیا جا چکا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے تقریبا دو ماہ قبل ماہ جولائی میں یہ اعلان کیا تھا کہ غزہ سے زخمی اور بیمار بچوں کی کچھ تعداد کو برطانیہ لایا جائے گا کہ ان کا یہاں علاج ہو سکے۔
برطانوی وزارت صحت نے اتوار کے روز بھی ان کے بارے میں اخفا کی حکمت عملی کو جاری رکھتے ہوئے ان کی برطانیہ آمد کا درست وقت اور دن نہیں بتایا ہے۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ ان کی آمد متوقع طور پر اگلے ہفتوں کے دوران ہوگی۔ ان کے انتہائی قریبی رشتہ دار بھی ان کے ساتھ ان کی تیمارداری کے لیے ہمراہ ہوں گے۔
'ڈیلی مرر' لندن کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ نے کہا فلسطینی بچوں کو لے کر آنے والا یہ قافلہ غزہ سے روانہ ہو چکا ہے اور اب راستے میں ہے۔
'مرر ' کے مطابق علاج کے لیے برطانیہ آنے سے پہلے بچوں کی دیکھ بھال خطے کے کسی اور ملک میں طبی ماہرین کر رہے ہیں۔ غزہ کے زخمی بچوں کی ایک تعداد کو پہلے بھی نجی پروگرام کے 'پروجیکٹ پیور ہوپ' کے تحت برطانیہ لایا گیا ہے۔
تاہم برطانوی حکومت کے عہدے داروں نے ابھی تک یہ تعداد خفیہ رکھی ہے کہ برطانیہ کتنے بچوں کو علاج کے لیے آنے کی اجازت دے گا۔
البتہ بعض رپورٹس کے مطابق پہلے گروپ میں 30 سے 50 تک بچے برطانیہ آسکتے ہیں۔ دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ برطانوی حکام برطانوی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو اب واپس بھیجنے کی کوشش میں ہیں۔
غزہ جنگ کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں ' مرر ' کو بتایا گیا ہے کہ ' یہ بہت زیادہ پیچیدہ سفارتی کام ہے۔ ان بچوں کو غزہ سے نکلنے میں مدد دیتے ہوئے پہلے دوسرے ملکوں تک سفر کرایا جائے گا بعد ازاں وہ برطانیہ علاج کے لیے پہنچیں گے۔ لیکن اس کے باوجود اس سکیم کے تحت کچھ بچوں کو برطانیہ لا نے کا کام جاری ہے۔