اسرائیلی بمباری کے بعد قطر کا بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

قطر کے نمائندے نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے صدر سے ملاقات کی ہے۔ تاکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے دوحہ پر پچھلے ہفتے ہونے والے اسرائیلی حملے کے خلاف یہ مطالبہ کر سکے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر عدالتی کارروائی کا نشانہ بنایا جائے۔

یہ بات جمعرات کے روز سرکاری حکام نے بتائی ہے۔

امیر قطر کے مذاکراتی مشن کے سربراہ محمد الخلیفی بدھ کے روز ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سربراہ سے ملے تھے۔ اس موقع پر فوجداری عدالت کے جج بھی ان کے ہمراہ تھے۔

قطری حکام کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ قطر اسرائیل کے بلاجواز اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی حملے کے خلاف قانونی و سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ تاکہ اسرائیل کو قطر پر حملہ کرنے کے حوالے سے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

یاد رہے اسرائیلی ریاست کی طرف سے 9 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس وقت میزائلوں سے حملہ کر دیا گیا جب دوحہ میں موجود حماس کی سیاسی قیادت صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ غزہ جنگ بندی کی نئی تجویز کا جائزہ لے رہی تھی اور اس سلسلے میں امریکہ کو مثبت سگنل دے چکی تھی۔

تاہم اسرائیلی ریاست کو جیسے ہی یہ خبر ملی کہ حماس کی سیاسی لیڈرشپ دوحہ میں جمع ہونے والی ہے تو اس نے ان سب کو ایک ہی بار حملہ کر کے قتل کرنے کی تیاری شروع کر دی اور 9 ستمبر کو عین اس وقت حملہ کر دیا جب وہ باہمی مشاورت میں مصروف تھے تاکہ امریکہ کو مثبت ریسپانس دیا جا سکے۔

کسی بھی خلیجی ملک پر اسرائیل کا اس طرح کا حالیہ برسوں میں پہلا حملہ ہے۔ بالعموم یہ توقع نہیں کی جاتی تھی کہ امریکہ کے ساتھ خلیجی ممالک کے یہ گہرے تعلقات اور سیکیورٹی معاہدات کی وجہ سے اسرائیل انہیں بھی بمباری کا نشانہ بنائے گا جیسا کہ وہ اس سے قبل لبنان، شام، ایران اور دیگر کئی ملکوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

قطر کے حکام نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ اسرائیل کا دوحہ پر حملہ غیر قانونی تھا اور یہ بین الاقوامی قانون کی ایسی سنگین خلا ورزی ہے جس کے نتیجے میں ہماری خودمختاری کو داؤ پر لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت میں قطر کی حیثیت ایک مبصر کی ہے۔ اسی لیے وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں خود مقدمہ نہیں لے جا سکتا۔ لیکن دوحہ میں اسرائیلی حملے کے بعد ہونے والی ہنگامی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں تمام عرب و اسلامی ممالک نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہر ممکنہ صورت میں اسرائیل کے خلاف مؤثر قانونی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دوبارہ سے اسرائیل اس طرح کی کارروائیاں نہ کر سکے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر امیر قطر کے مشیر خاص محمد الخلیفی کے مطابق قطر نے اپنی ٹیم کے ارکان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی غیر قانونی کارروائی کے خلاف اقدامات کے لیے کام کرے اور ان مواقعوں کو تلاش کر کے رکھیں جو اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی اس کارروائی کا نوٹس لینے کے لیے مفید ہو۔

پچھلے سال بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ شہریوں پر بھوک مسلط کر کے انہیں بھوک سے بھی ہلاک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور بھوک و قحط کو ایک جنگی حربے کے طور رہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے 65141 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ جن میں بڑی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ ان دنوں میں بدترین اسرائیلی بمباری اور غزہ شہر سے لاکھوں فلسطینیوں کے جبری انخلاء کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں