شام میں اقوام متحدہ کی طرف سے سفارتی ذمہ داریاں ادا کرنے والے ذمہ دار نے کہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مستعفی ہونے کا اعلان جمعرات کے روز کیا ہے۔
سفارتی ذمہ دار پچھلے 7 برسوں سے شام میں کام کر رہے تھے۔ ان کی ذمہ داریوں کا آغاز بشار الاسد کے زمانے میں خانہ جنگی کے دنوں میں ہوا تھا۔
گیئر پیڈرسن ناروے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سالہا سال سے سفارتی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو آگاہ کر دیا ہے کہ میں مستعفی ہو رہا ہوں۔
پیڈرسن کی عمر 69 سال ہے۔ 7 سال قبل جب ان کی شام میں تعیناتی ہوئی تو اس وقت شام خانہ جنگی سے گزر رہا تھا۔ شام میں بد امنی و افراتفری تھی۔ داعش کے جنگجو شام کے بڑے حصے پر قابض ہو چکے تھے۔
بعدازاں داعش گروپ نے اقتدار کھودیا۔ تاہم اس کے بعض گروپس شام میں ابھی موجود ہیں۔
پیڈرسن کی ذمہ داریوں میں اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 پر عملدرآمد کرانا تھا۔ تاکہ خطے میں سیاسی حل نکل سکے اور تصادم سے بچا جا سکے۔ تاکہ بشار الاسد اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔