شاہ سلمان مرکز کے 67 انسانی منصوبے ... شامی عوام کے دکھوں کا مداوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی پناہ گزین خاتون زہیہ عبد الحق (67 سالہ) نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کی صحت کی اذیت ختم ہو سکے گی، جو اس کی زندگی کو بوجھل بنا چکی تھی۔ جنگ کے حالات نے اسے مسلسل ہجرت پر مجبور کیا، وہ شام کے دیہات اور قصبوں میں بھٹکتی رہی۔ شدید درد نے اس کے جسم کو اس قدر کمزور کر دیا کہ لبنان کے قصبے عرسال میں سکونت اختیار کرنے کے بعد وہ چلنے پھرنے سے بھی محروم ہو گئی۔ تاہم شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کی جانب سے ایک آپریشن کے بعد زہیہ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئی اور یوں اس کی اذیت کا خاتمہ ہو گیا۔

زہیہ کی حالت ان بے شمار متاثرین سے ملتی جلتی ہے جنھیں ہجرت کی سختیوں نے توڑ دیا اور جنگ کے زخموں نے ان کی روحوں کو چھلنی کر دیا۔ لیکن شاہ سلمان مرکز نے اپنے امدادی منصوبوں سے شامیوں کے مصائب کم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ سال 2025 میں مرکز نے 67 سے زیادہ انسانی منصوبے نافذ کیے جن کی مالیت 7.6 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ ان منصوبوں میں تعلیم، صحتاور غذائی و زرعی تحفظ کے منصوبے شامل تھے، جن سے شام کے اندر کمزور ترین طبقات کے تقریباً 34,851,501 افراد نے فائدہ اٹھایا۔ یہ بات شاہ سلمان مرکز نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتائی۔

اسی دوران دیگر اقدامات کے تحت اردن کے الزعتری کیمپ میں پناہ گزینوں کے علاج کے لیے طبی کلینکوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ "امل سعودی" کے نام سے ہڈیوں کی سرجری کا منصوبہ ایسے بچوں کے لیے زندگی بدلنے کا باعث بنا جو چلنے اور دوبارہ اسکول جانے کا خواب دیکھتے تھے۔ مرکز کی کوششیں بچوں کے کینسر کے علاج، دل، دماغ، اعصاب اور یورولوجی کی سرجریوں، ادویات اور طبی آلات کی فراہمی تک پھیل گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شمال مغربی شام کے زلزلے میں والدین سے محروم ہونے والے یتیم بچوں کی کفالت بھی شامل تھی، جنھوں نے ان اقدامات میں اپنے غم کا سہارا پایا۔

مرکز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کے پروگرام صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کو با اختیار بنانے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے پر بھی مشتمل ہوں، تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کے پائے دار ترقیاتی اہداف کے مطابق با عزت زندگی گزار سکیں۔ شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات نے اعادہ کیا کہ یہ کاوشیں مملکت کے روایتی انسانی کردار کا تسلسل ہیں، تاکہ شامی عوام کی مدد کی جا سکے اور ان کی مشکلات کم کی جا سکیں۔ اس طرح سعودی عرب کا انسان دوست کردار ان تمام گوشوں میں نمایاں رہے جہاں مشکلات کے باوجود زندگی کی رمق دوبارہ جنم لیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں