شامی پناہ گزین خاتون زہیہ عبد الحق (67 سالہ) نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کی صحت کی اذیت ختم ہو سکے گی، جو اس کی زندگی کو بوجھل بنا چکی تھی۔ جنگ کے حالات نے اسے مسلسل ہجرت پر مجبور کیا، وہ شام کے دیہات اور قصبوں میں بھٹکتی رہی۔ شدید درد نے اس کے جسم کو اس قدر کمزور کر دیا کہ لبنان کے قصبے عرسال میں سکونت اختیار کرنے کے بعد وہ چلنے پھرنے سے بھی محروم ہو گئی۔ تاہم شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کی جانب سے ایک آپریشن کے بعد زہیہ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئی اور یوں اس کی اذیت کا خاتمہ ہو گیا۔
انطلاقة جديدة من العطاء والأمل.. تدشين #المشاريع_الإنسانية_في_سوريا لدعم المحتاجين وبناء مستقبل أفضل pic.twitter.com/xg667LSvrK
— مركز الملك سلمان للإغاثة (@KSRelief) September 8, 2025
زہیہ کی حالت ان بے شمار متاثرین سے ملتی جلتی ہے جنھیں ہجرت کی سختیوں نے توڑ دیا اور جنگ کے زخموں نے ان کی روحوں کو چھلنی کر دیا۔ لیکن شاہ سلمان مرکز نے اپنے امدادی منصوبوں سے شامیوں کے مصائب کم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ سال 2025 میں مرکز نے 67 سے زیادہ انسانی منصوبے نافذ کیے جن کی مالیت 7.6 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ ان منصوبوں میں تعلیم، صحتاور غذائی و زرعی تحفظ کے منصوبے شامل تھے، جن سے شام کے اندر کمزور ترین طبقات کے تقریباً 34,851,501 افراد نے فائدہ اٹھایا۔ یہ بات شاہ سلمان مرکز نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتائی۔
في دمشق.. التقى المشرف العام على #مركز_الملك_سلمان_للإغاثة د. عبدالله الربيعة وزير الخارجية السوري أسعد الشيباني، بحضور سفير المملكة لدى سوريا د. فيصل المجفل، لبحث المشاريع الإنسانية المنفذة والمزمعة، وسط تأكيد التعاون المشترك وتبادل الشكر والتقدير#المشاريع_الإنسانية_في_سوريا pic.twitter.com/kInV0Pjo3t
— مركز الملك سلمان للإغاثة (@KSRelief) September 7, 2025
اسی دوران دیگر اقدامات کے تحت اردن کے الزعتری کیمپ میں پناہ گزینوں کے علاج کے لیے طبی کلینکوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ "امل سعودی" کے نام سے ہڈیوں کی سرجری کا منصوبہ ایسے بچوں کے لیے زندگی بدلنے کا باعث بنا جو چلنے اور دوبارہ اسکول جانے کا خواب دیکھتے تھے۔ مرکز کی کوششیں بچوں کے کینسر کے علاج، دل، دماغ، اعصاب اور یورولوجی کی سرجریوں، ادویات اور طبی آلات کی فراہمی تک پھیل گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شمال مغربی شام کے زلزلے میں والدین سے محروم ہونے والے یتیم بچوں کی کفالت بھی شامل تھی، جنھوں نے ان اقدامات میں اپنے غم کا سہارا پایا۔
🇸🇦➡️🇸🇾
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) September 8, 2025
”لا تقدّموا للسوريين إلا ما ترضونه للشعب السعودي”
توجيه الملك وولي العهد كما رواه د. عبدالله الربيعة المشرف على مركز الملك سلمان للأعمال الإنسانية، بعد تقديم السعودية 454 جهاز غسيل كلوي من نوع Fresenius الأفضل في العالم، لدعم المرضى في سوريا.
عبر:
Ayham Al_Bayoush pic.twitter.com/0QAnOTcz6n
مرکز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کے پروگرام صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کو با اختیار بنانے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے پر بھی مشتمل ہوں، تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کے پائے دار ترقیاتی اہداف کے مطابق با عزت زندگی گزار سکیں۔ شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات نے اعادہ کیا کہ یہ کاوشیں مملکت کے روایتی انسانی کردار کا تسلسل ہیں، تاکہ شامی عوام کی مدد کی جا سکے اور ان کی مشکلات کم کی جا سکیں۔ اس طرح سعودی عرب کا انسان دوست کردار ان تمام گوشوں میں نمایاں رہے جہاں مشکلات کے باوجود زندگی کی رمق دوبارہ جنم لیتی ہے۔
-
سعودی عرب نے دو ریاستی حل کے لیے "نیویارک اعلامیے" پر دستخط پر بہت سے ممالک کو قائل کیا
فرانسیسی صدر کے مطابق "نیویارک اعلامیے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان باہمی ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب اور شام کے درمیان تعلیم کے شعبے میں تعاون کے فروغ پر بات چیت
سعودی عرب کے وزیرِ تعلیم یوسف البنیان نے اپنے شامی ہم منصب ڈاکٹر مروان الحلبی سے ...
مشرق وسطی -
سعودی وزیر خارجہ کی "غزہ میں اگلا روز" اجلاس میں شرکت
سعودی عرب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کرنے اور فلسطینی خود مختاری ...
مشرق وسطی