پہلی برس پر اسرائیل نے حسن نصر اللہ کی وہ غلطی بتا دی جس نے ان کی جان لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حزب اللہ کے معتمدِ عام حسن نصر اللہ کے قتل کی پہلی برسی پر اسرائیلی فوج نے نئی خفیہ معلومات کا انکشاف کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حسن نصر اللہ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ حزب اللہ کی قیادت کے خلاف اسرائیل کی طرف سے چلائی جانے والی قتل کی مہم میں اگلا ہدف ہیں۔ اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حسن نصر اللہ قتل ہونے سے پہلے کے دنوں میں اور نام نہاد پیجر حملے کے بعد بھی اپنی خفیہ پناہ گاہ میں موجود رہے اور وہ اسرائیل کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے تھے اور اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کا قتل قریب آ چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حسن نصر اللہ اس عرصے کے دوران حزب اللہ کی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تنظیم کے بنیادی ڈھانچے اور اس کے کئی ممتاز رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں کے بعد وہ حزب اللہ کو دوبارہ تعمیر کرنے جارہے تھے۔ انٹیلی جنس نے مزید کہا کہ تنظیم کو دوبارہ منظم کرنے کی ان کی تمام کوششوں کو شدید نگرانی کی وجہ سے تیزی سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے قتل کی کارروائی کے لیے سالوں سے جمع کی گئی درست انٹیلی جنس معلومات پر انحصار کیا جس سے اس مضبوط پناہ گاہ کے عین مقام کا تعین کرنا ممکن ہوا جہاں حسن نصر اللہ چھپے ہوئے تھے۔ صہیونی فوج نے مزید کہا کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں واقع یہ پناہ گاہ ایرانی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کی گئی تھی اور تنظیم کے اندرونی حلقوں میں بھی مکمل رازداری برقرار رکھی گئی تھی۔

27 ستمبر 2024 کو کی گئی کارروائی میں اسرائیلی فضائیہ نے زیر زمین کمانڈ سینٹر پر 83 بنکر شکن بم گرائے جس کے نتیجے میں فوجی رپورٹ کے مطابق حسن نصر اللہ اور حزب اللہ کے کئی فوجی رہنما مارے گئے۔ یہ قتل حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوج کی طرف سے کی جانے والی سب سے پیچیدہ کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایران کے حمایت یافتہ اس تنظیم کے لیے ایک تزویراتی دھچکا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں