اسرائیلی ریاست میں تعینات امریکی سفیر اتوار کے روز مصر کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے دورے کا یہ اعلان ان کی ذمہ داری اور معمول سے ہٹی ہوئی سرگرمی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ایسا عام طور پر نہیں ہوتا کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مصر کا بھی دورہ کرے۔
اسرائیل میں سفیر ہکابی کے اس امکانی دورے کے حوالے سے سفارتخانے کے ترجمان نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اپنے دورہ قاہرہ کے دوران مصری حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ ایک طرح سے کم کم ہونے والا دورہ ہو گا۔ جو کئی دہائیوں بعد وقوع پذیر ہوگا کہ اسرائیل میں تعینات سفیر اس طرح متحرک ہو کہ مصر میں بھی ملاقاتوں کی ذمہ دار ی اسے سونپی جائے۔
سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق ان کا یہ دورہ علاقے میں موجود امریکی سفارتی حکام سے بھی باہمی رابطوں کا ایک ذریعہ ہوتا ہے تاکہ باہم تبادلہ خیال کرتے رہیں۔
سفارت خانے کے ترجمان نے یہ بھی کہا امریکہ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ علاقے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعمیری بات چیت کو جاری رکھتا ہے۔ تاکہ ایشوز کے بارے میں تبادلہ خیال بھی ہوتا رہے۔ تاہم امریکی سفارت خانے نے اس امکانی دورے کی متعین تاریخ نہیں بتائی ہے نہ ہی دورے کے ایجنڈے کے نکات واضح کیے ہیں۔
خیال رہے مصر امریکی اتحادی ملک ہے تاہم اسرائیلی ریاست کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے عرب ملک کا شرف رکھنے کے باوجود اسے اسرائیل سے شکایات بھی گاہے گاہے رہتی ہیں۔
غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ مصر کی سرحد پر جاری ہے۔ اس لیے مصر نے بھی اپنی افواج کو اسرائیلی سرحد کے ساتھ چوکنا رکھا ہوا ہے۔
نیز مصر قطر اور امریکہ کے ساتھ مل کر ان بے نتیجہ رہنے والے جنگ بندی مذاکرات میں ایک ثالث کے طور پر بھی موجود ہے جو گاہے قطر اور گاہے قاہرہ میں ہوتے رہے ہیں۔ اب اسرائیل میں امریکی سفیر کے دورے کا یہ اعلان دورہ مشرق وسطیٰ کے لیے صدر ٹرمپ کے نئے منصوبے کے کچھ ہی دن بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر کا اپنے سینائی صحرائی علاقے میں فوج کو مستعد کیے جانے سے اسرائیلی ریاست کو تحفظات ہیں۔