عراق میں شیعہ قومی دھارے کے رہنما مقتدیٰ الصدر نے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی اُن دھمکیوں پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے جن میں اُن کے قتل کی سازش کا ذکر کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات شیعہ قومی دھارے کی شرکت کے بغیر ہونے والے پہلے انتخابات ہوں گے۔
مقتدیٰ الصدر نے زور دے کر کہا کہ عراقی عوام اب با شعور ہو چکے ہیں اور وہ آزمائے ہوئے کو دوبارہ ووٹ نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا "آزمودہ کو دوبارہ آزمایا نہیں جاتا"۔ ساتھ ہی انھوں نے اُن لوگوں کی جانب سے ممکنہ کشیدگی کے خدشے کا اظہار کیا جنھیں انھوں نے "اقتدار کے عشاق" قرار دیا۔
مقتدی الصدر نے بد عنوانی اور ناقص عوامی خدمات پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنے حامیوں کے شعور پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
غیرقانونی اسلحے کے حوالے سے مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ سیکیورٹی کے معاملات کا کوئی نگہبان نہیں رہا۔ انھوں نے قبائل، ملیشیاؤں اور اُن کے دفتروں میں موجود بھاری اسلحے کے پھیلاؤ پر خبردار کیا، جو رہائشی علاقوں میں واقع ہیں اور شہریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
-
حزب اللہ کے حامی لبنانی رکن پارلیمنٹ پر حملہ، گھر کے سامنے احتجاجی مظاہرے
لبنانی پارلیمنٹ کے رکن مروان حمادہ نے جمعرات کو الروشہ علاقے میں حزب اللہ کی ایک ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج کی لبنان میں کارروائی، حزب اللہ کے ہتھیاروں کا ڈپو نشانہ
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے لبنانی عسکری گروپ حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو کو نشانہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل فرقہ ورانہ تشدد کو ہوا دے کر شام کی تعمیر میں رکاوٹ ڈال رہا: اسعد الشیبانی
اسرائیلی حملوں سے تعلقات کو معمول پر لانا مشکل ہوگیا: شامی وزیر خارجہ
مشرق وسطی