دبئی ایئر شو کے منتظمین نے منگل کے روز اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ اس سال دبئی میں ہونے والے ایئر شو میں اسرائیلی کمپنیوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر شو کے لیے ڈائریکٹر انفورما ٹموتھی ہاویس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا اگلے ماہ منعقد کیے جانے والے بین الاقوامی ایئر شو میں اسرائیلی کمپنیاں شریک نہیں ہو سکیں گی۔
مشرق وسطیٰ کی مخصوص صورتحال میں یہ تصدیق اس لیے اہم ہے کہ اسرائیل نے رواں سال کے شروع میں ہی صورتحال کو بھانپ لیا تھا اور اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کر دیا تھا کہ اسرائیل اس سال دبئی ایئر شو میں حصہ نہ لے گا۔
تاہم دبئی ایئر شو کے منتظمین کی طرف سے اسرائیلی کمپنیوں کو روکنے کی وجوہات کو ڈسکس نہیں کیا ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ غزہ میں جنگ نے عرب امارات سمیت ہر کسی ملک کے شہریوں کو ایک رد عمل کا شکار کیا ہے۔
مزید یہ کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کو بھی جبری طور پر اسرائیل سے مستقل جوڑنے کی باتیں بھی تیز کر کے ناراضگی کو اور بڑھایا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل سے جبری انخلاء کے بارے میں سخت انداز سے خبردار کر رکھا ہے کہ مضبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل سے کوئی بھی الحاق ابوظہبی کی سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہوگا۔
متحدہ عرب امارات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران خلیجی ممالک میں سے پہل کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا۔ علاوہ ازیں بحرین اور مراکش نے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔
تاہم ایئر شو میں عدم شرکت کی بات غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دو سال مکمل ہونے کے روز سامنے آئی ہے اور یہ اسرائیل کے لیے بری علامت ہے۔