سعودی عرب کی سرپرستی میں لبنان اور شام کے درمیان سکیورٹی تعاون جاری ہے:لبنانی وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان کے وزیر داخلہ و بلدیات بریگیڈیئر احمد الحجار نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ کسی مذہب، علاقے یا فرقے سے وابستہ نہیں۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ بیروت اور دمشق کے درمیان سکیورٹی تعاون جاری ہے، جس کی سرپرستی سعودی عرب کر رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے وزارت سے وابستہ تمام سکیورٹی اداروں کو سخت ہدایات جاری کیں، جنہوں نے متعدد کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے بڑی مقدار میں کیپٹاگون گولیاں، کوکین اور چرس برآمد کی، جب کہ اسمگلنگ کے کئی نیٹ ورک توڑے اور متعدد اہم ملزمان کو گرفتار کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی حکومت منشیات کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے اور اس تباہ کن کاروبار کو ملک کا راستہ بنانے نہیں دے گی۔

سعودی تعاون سے 1.5 کروڑ ڈالر مالیت کی منشیات پکڑی گئی

احمد الحجار نے بتایا کہ جرم ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، مگر اصل بات یہ ہے کہ اس کے خاتمے کے لیے مضبوط ارادہ اور مسلسل کوشش ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ کسی مخصوص مذہب یا علاقے تک محدود نہیں، اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کو مکمل سیاسی حمایت حاصل ہے، صدرِ جمہوریہ سے لے کر پوری حکومت اس کے پیچھے متحد ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی ہم آہنگی

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ حالیہ کارروائیاں اندرونِ لبنان کے ساتھ بیرونِ ملک سے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ لبنانی سکیورٹی فورسز نے حال ہی میں وزارتِ داخلہ سعودی عرب کے ساتھ براہِ راست تعاون کے تحت بڑی مقدار میں کوکین ضبط کی، جو سعودی عرب کی جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے انسدادِ منشیات کی معلومات پر ممکن ہوئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور کارروائی میں شُعبہ اطلاعات نے سعودی عرب بھجوانے سے قبل کیپٹاگون کی بڑی کھیپ پکڑ لی اور سعودی سکیورٹی اداروں کو فوراً اس کی اطلاع دی گئی۔

وزیر داخلہ کے مطابق لبنان اور سعودی عرب کے سکیورٹی اداروں کے درمیان مستقل اور گہرا تعاون جاری ہے۔ سعودی عرب نہ صرف دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان براہِ راست ہم آہنگی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ اس نے لبنان اور شام کے درمیان مشترکہ سکیورٹی اجلاسوں کی میزبانی بھی کی ہے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

سعودی شہریوں کی واپسی کی تیاری

انہوں نے بتایا کہ موسمِ گرما کے آغاز پر سعودی سفارت خانے اور مملکت کے متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے نتیجے میں لبنان نے سکیورٹی اقدامات میں اضافہ کیا ہے تاکہ سعودی بھائیوں کی لبنان واپسی کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اردن کے راستے خلیجی ممالک کو اور ترکیہ کے راستے آسٹریلیا بھیجی جانے والی منشیات کی کئی کوششیں ناکام بنائی گئیں اور ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کو توڑ کر "سانپ کا سر" کاٹ دیا گیا، جس سے لبنانی اور برادر ممالک کے معاشروں کو ایک بڑے خطرے سے محفوظ بنایا گیا۔

انسانی وسائل، سکیورٹی فورسز کی اصل طاقت

احمد الحجار نے بتایا کہ لبنان کی اندرونی سکیورٹی فورسز، جنرل سکیورٹی اور فوج کے ادارے جدید صلاحیتوں سے آراستہ ہیں۔ اگرچہ تکنیکی وسائل محدود ہیں، لیکن انسانی عزم اور قربانیاں ان کی اصل طاقت ہیں، جن کے باعث نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تجربات اور مہارتیں برسوں کی تربیت اور دوست ممالک کے تعاون سے حاصل ہوئیں، خصوصاً سعودی عرب کی جامعہ نائف برائے سکیورٹی علوم کے ساتھ اشتراک سے، جو عرب دنیا میں تربیتِ سکیورٹی کا نمایاں مرکز ہے۔

لبنانی ادارے امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ بھی تعاون کر رہے ہیں، جنہوں نے انسدادِ جرائم اور سکیورٹی میں لبنان کی بھرپور مدد کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں