فلسطینی قیدیوں کی نئی تفصیلات... عمر قید کے 195 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزارتِ انصاف کی جانب سے جمعے کو غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کیے جانے کے بعد نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق ویب سائٹ "ویلا" نے بتایا کہ قیدیوں کی حتمی فہرست میں 195 فلسطینی شامل ہیں جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ان میں سے 60 قیدی حماس سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں رہا کیا جائے گا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک نے تقریباً 100 ناموں پر اعتراض کیا، جب کہ 25 سرکردہ قیدیوں کو فہرست سے نکال دیا گیا۔

اخبار "یدیعوت آحرونوت" کے مطابق اسرائیل نے ان فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے منتقل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے جنھیں رہائی ملنے والی ہے۔

یہ فہرست اسرائیلی حکومت کے اندرونی حلقوں میں اختلاف کا باعث بنی، کیونکہ شاباک نے کئی ناموں پر اعتراض کیا تھا۔ وزارتِ انصاف نے بعد میں 250 فلسطینیوں کی فہرست جاری کی جنھیں طویل سزائیں سنائی گئی تھیں۔

تاہم اس فہرست میں ان نمایاں فلسطینی رہنماؤں کے نام شامل نہیں کیے گئے جن کی رہائی کا مطالبہ حماس نے کیا تھا۔ مثلا : فتح موومنٹ کے رہنما مروان برغوثی، عوامی محاذ کے سیکریٹری جنرل احمد سعدات اور حماس کے رہنما حسن سلامہ۔

یاد رہے کہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے بعد طے پانے والی مفاہمتی دستاویز میں یہ شق شامل ہے کہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو جو زندہ ہیں، رہا کیا جائے گا اور اس کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی ایک مخصوص فہرست میں شامل افراد کو 72 گھنٹوں کے اندر رہا کیا جائے گا جب کہ جنگ بندی نافذ العمل ہو چکی ہو۔

دستاویز کے مطابق رہائی کا عمل کسی براہِ راست میڈیا کوریج یا مسلح اور جشن منانے کے مظاہرے کے بغیر انجام دیا جائے گا، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ اس پورے عمل کی میدانی نگرانی صرف ریڈ کراس تنظیم کرے گی اور اگر کوئی خلاف ورزی ہو گی تو وہی اسے رپورٹ کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں