اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کے لیے "جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی"۔ انھوں نے عہد کیا کہ غزہ کی پٹی میں موجود تمام یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔
نیتن یاہو نے یہ بات جمعرات کو بیت المقدس کے ہرزل پہاڑی قبرستان میں ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے واضح کیا کہ "لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن ایک بات بالکل واضح ہے ... جو کوئی ہم پر ہاتھ اٹھائے گا، اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔" اُنھوں نے کہا کہ اسرائیل "بربریت اور تہذیب کے درمیان صفِ اوّل میں کھڑا ہے۔"
نیتن یاہو نے مزید کہا "ہم تمام قیدیوں کی واپسی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں"۔
ایک روز قبل حماس نے اعلان کیا کہ اُس نے ان تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں جن تک اُس کی رسائی ممکن تھی اور باقی لاشوں کے لیے خصوصی آلات درکار ہوں گے تاکہ اُنھیں ملبے سے نکالا جا سکے۔
القسام بریگیڈز جو حماس کا عسکری وِنگ ہے، اس نے بھی تصدیق کی تھی کہ اُن یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کر دی ہیں جن تک اُس کے کارکن پہنچ سکے۔ بریگیڈز نے کہا "ہم نے اپنے قبضے میں موجود زندہ یرغمالیوں کو بھی حوالے کیا اور وہ لاشیں بھی دے دی ہیں جن تک ہم پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔"
تنظیم نے یہ بھی وضاحت کی کہ باقی یرغمالیوں کی لاشوں تک پہنچنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششوں اور مخصوص آلات کی ضرورت ہے۔ مزید کہا گیا "ہم اسرائیلی یرغمالیوں کے معاملے کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔"
اسرائیلی حکومت کی ترجمان نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیل کو توقع ہے کہ حماس باقی تمام یرغمالیوں کو بھی واپس کرے گی۔
ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا "حماس پر لازم ہے کہ وہ ثالثوں کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے تحت ہمارے تمام یرغمالیوں کو واپس لوٹائے۔"
انھوں نے مزید کہا "ہم اس معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے اور اپنے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے کوئی کوشش ادھوری نہیں چھوڑیں گے۔"