اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے 'ڈبلیو ایچ او' نے جنگ اور قحط زدہ غزہ کے حوالے سے کہا ہے کہ ہزاروں بیمار فلسطینیوں کو علاج کی ضرورت ہے۔ اس لیے ان تمام بیمار لوگوں کو غزہ سے باہر علاج کے لیے جانے کی اجازت دی جائے۔ یہ ان کی صحت اور زندگیوں کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی طرف سے یہ مطالبہ جمعہ کے روز سامنے آیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے پچھلی دو سالہ جنگ کے دوران اور اب تک مجموعی طور پر 7800 فلسطینی مریضوں کو غزہ سے باہر دوسرے ملکوں کے ہسپتالوں میں منتقل کرنے میں مدد دی ہے۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے بعد اب 15000 مریض ایسی بری حالت میں ہیں کہ انہیں فوری طور پر علاج کے لیےنکالا جانا چاہئیے۔
لیکن دس اکتوبر سے نافذالعمل جنگ بندی کے باوجود ثالث ملکوں نے کوئی ایسا میکانزم نہیں بنایا ہے کہ مریض فلسطینی جلد سے جلد غزہ سے باہر ایسے ملکوں میں منتقل کیے جا سکیں۔
ایک ذریعے کے مطابق عالمی ادارہ صحت دس اکتوبر سے اب تک صرف 41 مریضوں کو غزہ سے باہر منتقل کروانے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ ان 41 مریضوں کی حالت نازک تھی جب انہیں غیر ملکی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
فلسطینی علاقوں کے لیے عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ رک پیپرکارن نے جمعہ کے روز یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ مصر سے جڑی رفح راہداری کو جنگ بندی کے دوران کھول دیا جائے۔ تاکہ اسی راہداری سے مریض بھی دوسرے ملکوں میں منتقل کیے جا سکیں۔
مریضوں کی منتقلی کے لیے ایک راہداری ضرور کھولی جائے۔ انہوں نے کہا یہ بڑا اہم اور سفری اعتبار سے کم خرچ راستہ ہے۔
یروشلم سے جنیوا میں رپورٹرز سے ویڈیو لنک پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا عالمی ادارہ صحت یومیہ پچاس مریضوں کو منتقل کرنے کی ذمہ داری قبول کرسکتا ہے۔
یاد رہے اس وقت غزہ میں 15000 مریض فوری علاج کے مستحق ہیں۔ جن میں 4000 فلسطینی بچے ہیں جن کا علاج غزہ میں ممکن نہیں ہے۔ اب تک غزہ میں 700 مریض علاج نہ مل سکنے کے سبب ہلاک ہو چکے ہیں۔