سعودی کمپنیوں کی شام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تیاری، امریکی پابندیاں بڑی رکاوٹ

"سیزر ایکٹ" شام کی معیشت کا آخری گلا گھونٹنے والا قانون قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب کی بڑی کمپنیاں شام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ اقدام مملکت کے اس کاروباری رجحان کا حصہ ہے جو شام کی بحالی اور ترقی پر مرکوز ہے، تاہم امریکی پابندیاں اور شامی ریاستی اداروں کی کمزوری اب بھی دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔

"سعودیہ شام بزنس کونسل" کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ ماندو نے بتایا کہ ان کمپنیوں میں توانائی کے میدان کی معروف کمپنی "اکوا پاور" اور "ایس ٹی سی" شامل ہیں جو شام کی منڈی میں داخل ہونے کی خواہاں ہیں۔

شام کے ساتھ 8 ارب ریال کی 8 معاہدے فعال

عبداللہ ماندو کے مطابق منصوبہ بندی کا مقصد جنگ سے تباہ حال شامی معیشت کو ازسرِنو کھڑا کرنا ہے۔ اس کے لیے توانائی، مالیات اور مواصلات کے بنیادی شعبوں کی تعمیرِ نو پر کام کیا جائے گا۔

ریاض میں "مستقبل سرمایہ کاری کانفرنس" کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ماندو نے کہا کہ ہدف اگلے پانچ برسوں میں شام میں حقیقی سرمایہ کاری کی صورت میں اربوں ڈالر لانا ہے۔

اکوا پاور اور ایس ٹی سی نے اس حوالے سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی پابندیاں اب بھی برقرار

گذشتہ برس جب شامی اپوزیشن نے سابق صدر بشار الاسد کو اقتدار سے معزول کردیا تھا۔ اس کے بعد ریاض نے عالمی سطح پر دمشق سے تعلقات بحال کرنے کی مہم میں مرکزی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں شام ایران کے اثر سے باہر آ رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیائی نقشہ ازسرِنو تشکیل پا رہا ہے۔

مئی میں سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شام کے نئے صدر احمد الشرع کے درمیان تاریخی ملاقات کی میزبانی کی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم سخت ترین "قیصر ایکٹ" کی منسوخی کا اختیار امریکی کانگریس کے پاس ہے، جہاں ارکان میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن توقع ہے کہ سال کے اختتام سے قبل اس پر فیصلہ کر لیا جائے گا۔

عبداللہ ماندو نے کہا کہ "قیصر قانون" شامی معیشت کا آخری گلا گھونٹنے والا قانون ہے۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس، امریکی وزارتِ خارجہ اور شامی وزارتِ اطلاعات نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے امکانات

عالمی بینک کے مطابق شام کی تعمیرِ نو کے اخراجات تقریباً 216 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ خانہ جنگی کے چودہ برسوں نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔

جولائی میں سعودی عرب نے شام میں 6 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جن میں 2.93 ارب ڈالر رئیل اسٹیٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے اور 1.07 ارب ڈالر ٹیلی کمیونیکیشن اور آئی ٹی کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے۔

سعودی منصوبہ "الدرعیہ کمپنی" نے اس ہفتے شامی حکام سے شام کے تاریخی مقامات کی بحالی میں ممکنہ کردار پر بات چیت کی۔

سعودی اور شامی کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ جلد ہی سعودی سرمایہ ہوابازی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی داخل ہوگا۔ اس کے ساتھ ریاض اور دمشق اردن کے راستے ریلوے لائن کے قیام پر بات کر رہے ہیں۔

شام نے قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ملکوں کے ساتھ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، مگر سخت پابندیوں اور مالیاتی مشکلات کے باعث عملی سرمایہ کاری بہت محدود رہی ہے۔

دونوں ممالک کے حکام پر امید ہیں کہ "قیصر ایکٹ" جلد ختم ہوگا اور وہ اس کے بعد کے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ماندو کے مطابق کونسل کے 60 سعودی اراکین میں سے کئی کی شامی جڑیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "سرمایہ تو موجود ہے، مگر خرچ نہ ہونے کے برابر ہے۔"

سعودی وژن 2030 کے تناظر میں

تجزیہ کاروں کے مطابق شام میں سرمایہ کاری کا فیصلہ جغرافیائی عوامل کے ساتھ ساتھ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے اہداف سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کر کے معیشت کو متنوع بنانا ہے۔

کمپنی "ہائی برج ایڈوائزری" کے مینیجنگ ڈائریکٹر عادل حمايزیہ نے کہا کہ "یہ اقدام وژین 2030 کے اس وسیع تر ہدف کے عین مطابق ہے جو نہ صرف اندرونِ ملک تبدیلی بلکہ خطے میں سعودی عرب کو مرکزی تجارتی و سرمایہ کاری مرکز بنانے پر مرکوز ہے"۔

انہوں نے مزید کہاکہ "مملکت کی خوشحالی اور معاشی تنوع اس کے ہمسایہ ممالک کے استحکام اور باہمی انضمام سے جڑے ہوئے ہیں"۔

گذشتہ بدھ کے روز ریاض میں منعقدہ" فیوچر انویسٹمٹ کانفرنس" میں شام کے صدر احمد الشرع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "شام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بحالی کا سفر سرمایہ کاری کے ذریعے کرے گا، امداد کے سہارے نہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں