کیا مصر کی سرحد پر اسرائیل کا فضائی کمانڈ سینٹر قائم کرنا امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے؟
قانون کے استاد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کمانڈ سینٹر کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی خلاف ورزی ہے
عالمی خبر رساں ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے مصر کی سرحد کے قریب ایک جدید فضائی کمانڈ سینٹر قائم کیا ہے، جس کا مقصد مغربی سرحد کے راستے منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنا بتایا جا رہا ہے ... اور اس مقصد کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
اس خبر پر مصری سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور اس اقدام پر کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی شرائط کے حوالے سے قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مصری فوجی ماہر اور کالج آف کمانڈ اینڈ اسٹاف کے مشیر میجر جنرل اسامہ محمود کبیر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں کہا کہ اگر یہ معلومات درست ہیں کہ اسرائیل نے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بریگیڈ 80 کے دائرہ کار میں ایک فضائی کمانڈ سینٹر قائم کیا ہے، تو یہ اضافی انتظامات کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سرحدی نگرانی کو مضبوط بنانا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل واقعی اس مرکز کے قیام کا آغاز کر چکا ہے تو اس سے متعلق تمام انتظامات مصر کی ان سرکاری اتھارٹیز سے مشاورت کے بعد طے کیے جائیں گے جو 1979 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی نگرانی کرتی ہیں، تاکہ کسی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔
میجر جنرل کبیر کے مطابق اسرائیل کا مغرب سے مشرق کی جانب ڈرون کے ذریعے اسمگلنگ میں اضافے کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بات کرنا غیر ضروری ہے اور مصر کی متعلقہ ایجنسیوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل اس طرح کی خبروں کے ذریعے میڈیا میں الجھن پیدا کرنا اور غزہ و مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر محمد محمود مہران نے جو امریکی اور یورپی سوسائٹی برائے بین الاقوامی قانون کے رکن ہیں، العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیلی فوج کا مصر کی سرحد پر ایک جدید فضائی کمانڈ سینٹر قائم کرنا کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی سنگین قانونی خلاف ورزی اور مصری قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ ہے۔
انھوں نے وضاحت کی کہ 1979 کے مصری۔اسرائیلی امن معاہدے میں ایک تفصیلی سیکیورٹی ضمیمہ شامل ہے، جو اسرائیلی فوجی موجودگی اور اسلحے کی حدود کو واضح طور پر متعین کرتا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل کا ایسا کمانڈ سینٹر قائم کرنا جو ریڈار نظام، الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز اور فضائی مداخلت کی صلاحیتوں سے لیس ہو ... اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ڈاکٹر مہران نے کہا کہ یہ اقدام بلا جواز فوجی اشتعال انگیزی ہے، کیونکہ اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے اتنے بڑے اور جدید فوجی ڈھانچے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق اس مرکز کی صلاحیتیں جاسوسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں جو مصر کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہو گی۔
انھوں نے مصری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی سفیر کو فوری طور پر طلب کرے اور اس مرکز کی نوعیت، صلاحیتوں اور مقاصد کے بارے میں با ضابطہ وضاحت طلب کرے۔
ڈاکٹر مہران نے مزید کہا کہ مصر اپنی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اسرائیلی اقدام کو قبول نہیں کرے گا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ریاستوں کو اپنی خود مختاری اور سلامتی کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ اگر اسرائیل کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھتا ہے تو مصر کو جوابی اقدام کے طور پر اپنے معاہداتی وعدوں پر نظرِ ثانی کرنے کا حق حاصل ہو گا۔
-
تاخیر کے بعد مصر گرینڈ میوزیم شاہانہ افتتاح کے لئے تیار
قاہرہ میں ہفتے کے روز طویل انتظار کے بعد بالآخر گرینڈ مصری میوزیم کا شاندار افتتاح ...
بين الاقوامى -
اسرائیل نے مصر کے ساتھ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی گیس ڈیل منجمد کر دی ... واشنگٹن کا رد عمل
اسرائیلی گیس فیلڈ "لیویاتھان" نے مصر کو قدرتی گیس برآمد کرنے کے لیے 35 ارب ڈالر ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے گلی سڑی لاشیں یا صرف ہڈیاں واپس کیں: غزہ کے صحت حکام کا انکشاف
لاشوں کی حالت انتہائی خستہ، گولیاں، تشدد اور ٹینکوں سے کچلے جانے کے آثار نمایاں ...
مشرق وسطی