اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی جانب سے حزب اللہ کو دی گئی وارننگ کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے سکیورٹی خطرات کو جڑ سے ختم کیا جائے گا۔
نیتن یاھو نے اتوار کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "حزب اللہ دوبارہ اسلحہ جمع کرنے اور اپنی طاقت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم لبنان کو اپنے خلاف ایک نیا محاذ نہیں بننے دیں گے اور ضرورت پڑی تو کارروائی کریں گے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے حوثی بھی اسرائیل کے لیے "انتہائی بڑا خطرہ" ہیں اور اسرائیل "انہیں ختم کرنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔"
"آگ سے کھیل رہے ہیں"
غزہ کے بارے میں نیتن یاھو نے کہا کہ اسرائیلی فوج رفح اور خان یونس سمیت ان علاقوں میں جہاں حماس کے کچھ گروہ اب بھی سرگرم ہیں، "منظم انداز میں کارروائیاں کر رہی ہے"۔
اس سے قبل یسرائیل کاٹزنے حزب اللہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "وہ آگ سے کھیل رہی ہے"۔انہوں نے لبنانی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیروت کو حزب اللہ سے اسلحہ واپس لینا چاہیے اور اسے جنوبی لبنان سے نکال دینا چاہیے۔
ادھر ایک اسرائیلی عہدیدار نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ تل ابیب میں اس بات کا سنجیدہ خدشہ ہے کہ حزب اللہ دوبارہ اپنی صلاحیتیں بحال کر چکی ہے اور اس نے شام سے سیکڑوں قلیل فاصلے کے راکٹ اسمگل کیے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے لبنان کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اسلحہ نہ چھوڑا تو "بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر دوبارہ بمباری کی جا سکتی ہے"۔
اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں بارہا خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ جنوبی لبنان میں اپنی طاقت بحال کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں متعدد حملے بھی کیے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
گذشتہ جمعرات اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ حزب اللہ "اپنی عسکری قوت بڑھانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے" اور اسرائیل "تماشائی بن کر نہیں بیٹھے گا"۔
اسی دوران امریکی ایلچی ٹوم براک نے لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے مذاکرات کر کے بحران کا مستقل حل نکالیں اور ایک ممکنہ امن معاہدے کی طرف اشارہ کیا۔
لبنانی ایوان صدر نے جواب میں کہا کہ بیروت بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم الزام لگایا کہ اسرائیل روزانہ کی بمباری کے ذریعے مذاکرات سے گریز کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ نومبر 2024ء سے نافذ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج اب بھی لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہےاور سرحدی علاقوں میں پانچ سے زیادہ اسٹریٹیجک مقامات پر موجود ہے جہاں سے انخلا سے انکار کیا جا رہا ہے۔
نومبر کے اس معاہدے نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال تک جاری خونریز لڑائی کو ختم کیا تھا۔ معاہدے کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی دریائی لیطانی (تقریباً 30 کلومیٹر اسرائیلی سرحد سے) سے پسپائی اختیار کرنی تھی، اپنی فوجی تنصیبات ختم کرنی تھیں اور ہتھیار صرف لبنانی ریاستی اداروں کے پاس رہنے تھے۔ اسرائیل کو بھی ان علاقوں سے نکلنا تھا جہاں وہ جنگ کے دوران آگے بڑھا تھا۔
لبنانی حکومت نے اگست میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی منظوری دی اور فوج نے اسلحہ واپس لینے کے لیے پانچ مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کیا، تاہم حزب اللہ نے اس اقدام کو متعدد بار مسترد کر دیا۔