اقوام متحدہ نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس نے اب تک غزہ کے 10 لاکھ فلسطینیوں میں خوراک کے پیکٹ تقسیم کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ فلسطینیوں کی ضرورت کے مقابلے میں خوراک کی انتہائی کم مقدار ہے۔
اقوام متحدہ نے اس موقع پر یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اب بھی غزہ میں زندگیاں بچانے کے لیے دوڑ جاری ہے کیونکہ خوراک مناسب مقدار میں فراہم نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے اس پر بھی زور دیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں کھلنے والی راہداریوں کو اب بند نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ قحط اور بھوک کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں کھولا جائے تاکہ لوگوں کو خوراک مل سکیں۔
عالمی خوراک پروگرام نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں رسائی کے لیے شمالی راہداری ابھی تک بند ہے۔ یہ بندش ناقابل فہم ہے۔
خوراک کی تقسیم کی مقدار کے حوالے سے یہ بات مشرق وسطیٰ کے لیے عالمی خوراک پروگرام کی ترجمان عبیر اتفاء نے بتائی ہے۔ انہوں نے قاہرہ سے جنیوا میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا عالمی خوراک پروگرام کی یہ کوششیں غزہ میں وسیع پیمانے پر پھیلی بھوک کو پیچھے دھکیلنے کے لیے جاری آپریشن کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا ہمارا پروگرام یہ ہے کہ ہم 16 لاکھ فلسطینیوں تک خوراک کے پیکٹ پہنچانا چاہتے ہیں۔ جو ایک خاندان کے لیے 10 دنوں کی ضرورت کے لیے کافی ہوں گے۔
تاہم ضرورت کے مطابق خوراک کا آپریشن تیز کرنے کے لیے ہمیں غزہ میں رسائی کے لیے زیادہ راہداریوں کی ضرورت ہے اور پابندیوں میں کمی لازمی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ کس طرح 145 فوڈ پوائنٹس کی بجائے 40 فوڈ پوائینٹس سے خوراک تقسیم کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت 7 لاکھ افراد کو تازہ روٹی یومیہ بنیادوں پر مل رہی ہے۔ یہ تازہ روٹی غزہ میں قائم 17 بیکریاں فراہم کر رہی ہیں جن میں سے 9 وسطی و جنوبی غزہ میں ہیں جبکہ 8 بیکریاں شمالی غزہ میں کام کر رہی ہیں۔
عالمی خوراک پروگرام کی ترجمان نے کہا کہ خوراک کے استعمال کی سطح میں قدرے بہتری آئی ہے۔ اس کے لیے میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے امدادی اداروں اور کمرشل ٹرکس کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ وہ اپنا کام ہر طرح کے حالات میں کر رہے ہیں۔
غزہ کے لیے عالمی خوراک پروگرام کے ترجمان نور حماد نے کہا خوراک کی قیمتیں ابھی تک غزہ میں لوگوں کی دسترس سے کہیں زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں 1 کلو سیب کی جو قیمت جنگ سے پہلے تھی اب اس سے کئی گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ اشیائے خورد کی مہنگائی اس قدر زیادہ ہے کہ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق خریداری سے قاصر ہیں۔ اگر کسی کو دو روٹیوں کی ضرورت ہو تو وہ صرف ایک خرید سکتا ہے۔
اس موقع پر عبیر اتفاء نے کہا سچی بات یہ ہے کہ ہم زندگیاں بچانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ ابھی بھی اسرائیل نے ٹرکوں کو گزرنے کی جن راہداریوں سے اجازت دی ہے وہ بہت محدود ہیں اور صرف کرم شالوم اور کیسوفم راہداری سے امداد اندر آنے کی اجازت ہے۔ اس وجہ سے شمالی غزہ میں خوراک پہنچانے میں بہت دقتیں ہیں لیکن ہمیں اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا جاتا کہ شمالی غزہ میں خوراک پہنچانے کے لیے ابھی تک راہداریوں کو کیوں نہیں کھولا گیا۔