اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے امریکی صدر کے داماد جیرڈ کوشنر سے ملاقات کی تاکہ رفح میں پھنسے افراد اور غزہ کے لیے امریکی منصوبے کے اگلے مراحل پر بات کی جا سکے۔ دوسری جانب حماس نے بھی کہا ہے کہ وہ رفح میں محصور افراد کے بحران کے حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔
نیتن یاھو اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں دو اہم معاملات زیر غور آئے جن میں رفح میں محصور حماس کے عناصر اور غزہ معاہدے کے عملی اقدامات شامل ہیں۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق اس وقت تک اسرائیل کا ارادہ نہیں ہے کہ رفح میں محصور افراد کو باہر نکالا جائے۔
نیتن یاھو نے امریکی نمائندوں سے ملاقات کے دوران یہ ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کیں کہ ضرورت پڑنے پر غزہ میں سکیورٹی اقدامات آزادانہ طور پر کیے جا سکیں اور یہ جنگ بندی کی ڈیل اقوام متحدہ کی قرارداد میں شامل ہوں تاکہ غزہ کے مستقبل کے لیے قانونی بنیاد موجود ہو۔
اسرائیلی عدالت نے وزیر اعظم کی درخواست پر آج کی سماعت ملتوی کی تاکہ کوشنر کے ساتھ ملاقات ممکن ہو سکے۔ کشنر نیتن یاھو سے حماس کے محصور کے مسئلے کے حل پر بات کریں گے اور امریکی حکام کے مطابق وہ نیتن یاھو کو تجویز کریں گے کہ حماس کے مسلح افراد کو عارضی طور پر کسی تیسری ملک بھیجا جائے بشرطیکہ وہ ہتھیار ڈالیں اور فوجی سرگرمیاں بند کریں۔ واشنگٹن اس معاملے کو حماس کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے کے لیے تجرباتی منصوبہ سمجھتا ہے۔
ترکیہ تقریباً دو سو حماس کے عناصر کے لیے رفح میں محفوظ راہداری فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ایک عارضی انسانی معاہدے کے تحت واشنگٹن اور قاہرہ کے ساتھ زیر بحث ہے۔ حماس نے معاہدے کے آغاز سے بیس اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس کیا، جبکہ اسرائیل باقی آٹھ لاشیں وصول کرنے کا منتظر ہے اور معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ان باقی لاشوں کی وصولی سے مشروط ہے۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈزنے بتایا کہ پچھلے مرحلے میں لاشیں نکالنا انتہائی مشکل حالات میں ہوا اور مزید لاشیں نکالنے کے لیے اضافی تکنیکی وسائل درکار ہیں۔ حماس نے واضح کیا کہ اس کے لیے "استعفیٰ یا دشمن کے سپرد ہونے" کا کوئی تصور نہیں اور درثالث ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے والا حل نکالیں۔ حماس نے بتایا کہ اسرائیل نے اب تک رفح میں محصور افراد کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی اور مصر کے ساتھ غزہ انتظامیہ کی کمیٹی بنانے کے معاہدے کو بھی اسرائیل نے روک دیا۔ معاہدے کے مطابق غزہ انتظامیہ کی کمیٹی میں آٹھ ارکان شامل ہوں گے جن میں ایک خاتون بھی ہوگی اور قیادت فلسطینی سول سوسائٹی کے نیٹ ورک کے ڈائریکٹر امجد الشوا کریں گے۔
حماس نے اسرائیل سے زور دیا کہ وہ غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کو فوری طور پر نافذ کرے، جس میں ایک کثیر القومی فورس غزہ میں سکیورٹی کی ذمہ داری مرحلہ وار سنبھالے گی اور اسرائیلی فوج کا کردار کم ہو جائے گا۔
-
حماس غزہ کے انتظامی امور میں فلسطینی حکومت سے الگ راستہ اختیار کر رہی ہے:تحریک فتح
تحریکِ فتح نے کہا ہے کہ حماس غزہ کی انتظامی کمیٹی کے ارکان اور اس کے سربراہ کا ...
بين الاقوامى -
متحدہ عرب امارات 'شاید' غزہ استحکام فورس میں شامل نہ ہو: سینئر عہدیدار
متحدہ عرب امارات غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں ...
مشرق وسطی -
عہدیدار: ترکیہ غزہ کی سرنگوں میں پھنسے 200 شہریوں کے لیے محفوظ راستے کا خواہاں ہے
ترکیہ غزہ کی سرنگوں میں پھنسے ہوئے تقریباً 200 شہریوں کے لیے محفوظ راستے کو یقینی ...
بين الاقوامى