ایک اسرائیلی عہدیدار نے ’’ العربیہ‘‘ اور ’’ الحدث‘‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو اپنی طاقت دوبارہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ہم اس کے خطرات کو ختم کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ اگر لبنانی فوج حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرتی ہے تو اسرائیل بھی اسی طرح کے اقدامات کرے گا اور ان اقدامات میں امریکہ کے ساتھ مل کر لبنان میں اپنی موجودگی کو بتدریج کم کرنا بھی شامل ہوگا۔
یہ اقدامات لبنان، اسرائیل اور پورے خطے کے لیے زیادہ محفوظ اور مستحکم مستقبل کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر لبنانی فوج دریائے لیطانی کے جنوب میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پہل نہیں کرتی ہے تو اسرائیلی فوج ایسا کرے گی۔ تین لبنانی سکیورٹی اہلکاروں اور دو اسرائیلی اہلکاروں نے کہا کہ اسرائیل لبنانی فوج پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ جنوب میں ہتھیاروں کے لیے نجی املاک کی تلاشی لے کر ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کے تخفیف اسلحہ کے عمل کو مزید سخت کرے۔
لبنانی سکیورٹی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ درخواست حالیہ ہفتوں میں کی گئی تھی لیکن لبنانی فوج کی کمان نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ خدشہ تھا کہ اس سے خانہ جنگی بھڑک سکتی ہے اور فوج کی محتاط لیکن موثر تخفیف اسلحہ کی حکمت عملی کو پٹڑی سے اتار دیا جا سکتا ہے۔
فوج نے 2025 کے آخر تک جنوبی لبنان کو حزب اللہ کے ہتھیاروں سے پاک قرار دینے کی اپنی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ یہ اس جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق ہوگا جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ سال تباہ کن جنگ کا خاتمہ پر ہوا تھا۔
فوج کی کارروائیوں سے واقف دو لبنانی شہری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وادیوں اور جنگلوں کی تلاش کے دوران 50 سے زیادہ سرنگوں کا پتہ لگایا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں 50 سے زیادہ گائیڈڈ میزائل اور سیکڑوں دیگر ہتھیاروں کو ضبط کیا گیا۔ تاہم لبنانی سیکورٹی حکام نے کہا کہ فوج کے منصوبے میں کبھی بھی نجی املاک کی تلاشی شامل نہیں تھی۔ دوسری طرف اسرائیل ایسے اقدامات کے بغیر منصوبے کی کامیابی پر شک کرتا ہے۔
جنگ بندی کی نگرانی
دو لبنانی سکیورٹی حکام نے کہا کہ اسرائیل نے اکتوبر میں "میکانزم" کمیٹی کی میٹنگوں کے دوران اس طرح کے چھاپوں کی درخواست کی تھی۔ امریکی قیادت میں لبنانی اور اسرائیلی افسران پر مشتمل ایک ادارہ کو جنگ بندی کی نگرانی کا کام سونپا گیا تھا۔ اس کے فوراً بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں اضافہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حزب اللہ کی دوبارہ مسلح کرنے کی کوششوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
لبنانی سیکورٹی حکام نے کہا ہے کہ ان حملوں کو ایک واضح انتباہ کے طور پر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ مؤثر طریقے سے تلاش کرنے میں ناکامی ایک نئی اور مکمل پیمانے پر اسرائیلی فوجی مہم کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک لبنانی سکیورٹی عہدیدار نے کہا وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم گھر گھر تلاشی لیں اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم چیزیں ان کے طریقے سے نہیں کریں گے ۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کو اسرائیلی دراندازی اور فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادی ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے دوران نمایاں دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن یہ گروپ اب بھی لبنان کے کمزور فرقہ وارانہ طاقت کی تقسیم کے نظام میں کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ 2 نومبر کو نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ لبنانی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی یعنی حزب اللہ سے اسلحہ لے گی۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ہم اپنے دفاع کے اپنے حق کا استعمال کریں گے جیسا کہ جنگ بندی معاہدے میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم لبنان کو دوبارہ اپنے خلاف محاذ نہیں بننے دیں گے اور ہم اپنی ضروریات کے مطابق عمل کریں گے۔
لبنان کا محاذ آرائی سے گریز
لبنانی سکیورٹی حکام نے کہا کہ فوج کو خدشہ ہے کہ جنوب کے رہائشی گھروں پر چھاپے مارے گئے تو اس علاقے کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے طور پر سمجھا جائے گا۔ یاد رہے اسرائیل نے گزشتہ سال دوبارہ داخل ہونے سے قبل سال 2000 تک تقریباً دو دہائیوں تک جنوبی لبنان پر قبضہ کیے رکھا تھا۔ سکیورٹی حکام اور ایک سیاسی شخصیت کے مطابق بیروت کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اسرائیل مزید مطالبات جاری رکھے گا جو بڑھتی ہوئے حملوں کو ایک مستقل خطرہ بنا دے گا اور ایک ایسے ملک کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا جو پہلے ہی جغرافیائی اور اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔
تاہم دوسری طرف اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ ملک کے جنوب اور شمال میں مقامات پر دوبارہ مسلح ہونے کی اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے اور لبنانی فوج اس گروپ کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ اسرائیل حزب اللہ کے مشتبہ ہتھیاروں کے ڈپو کے بارے میں خفیہ معلومات مشترکہ نگرانی کے طریقہ کار کو فراہم کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ کارروائی کے لیے لبنانی فوج کو معلومات بھیجتا ہے۔ ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل نے اس وقت براہ راست کارروائی کی ہے جب اسے یقین ہو کہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کی منتقلی ہو رہی ہے یا جب اسے یقین ہو کہ لبنانی افواج تیزی سے کارروائی نہیں کر رہی ہیں۔ لبنانی سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جنوب میں فوج کی نئی چوکیاں حزب اللہ کو ہتھیاروں کی منتقلی سے روک رہی ہیں۔
حزب اللہ نے جنوب میں اپنی افواج کی تعمیر نو کی تردید کی ہے۔ حزب اللہ نے وہاں لبنانی فوج کی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے اور پچھلے سال کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل پر فائرنگ نہیں کی ہے لیکن اس نے بار بار مکمل طور پر غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے۔ اس ہفتے گروپ نے ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کے خلاف لبنان کا دفاع کرنے کے اپنے "جائز حق" پر زور دیا۔ ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا کہ حزب اللہ لبنان میں غالب قوت بنی رہنا چاہتی ہے۔ یہ اس کی اور ایران کی مشترکہ خواہش ہے۔
امریکہ لبنان کو مذاکرات کی طرف دھکیل رہا ہے۔ امریکہ بیروت پر بھی زور دے رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایک مستقل جنگ بندی تک پہنچنے اور اپنے دیرینہ زمینی سرحدی تنازع کو حل کرنے کے لیے سیاسی چینل قائم کرے۔ اس ماہ بحرین میں ایک سکیورٹی کانفرنس میں امریکی ایلچی تھامس براک نے کہا کہ اس راستے کو مذاکرات کے لیے یروشلم یا تل ابیب تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون کو مشورہ دیا کہ وہ فون اٹھائیں اور نیتن یاہو کو فون کریں اور کہیں کہ آئیے اس گڑبڑ کو ختم کریں۔
جوزف عون نے یہ واضح کیے بغیر بات کرنے پر آمادگی ظاہر کی کہ آیا وہ براہ راست رابطے پر غور کریں گے یا نہیں۔ حزب اللہ نے تمام مذاکرات کو مسترد کر دیا اور چار لبنانی عہدیدار اس حوالے سے محتاط رہے۔ حکام نے غزہ اور شام کی طرف اشارہ کیا جہاں اسرائیل نے آخری لمحات میں ایسے حالات کا اضافہ کیا جس سے تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت روک دی گئی۔ حکام نے کہا کہ گھروں پر چھاپوں کا مطالبہ رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایک لبنانی سیاسی عہدیدار نے کہا ہے کہ یہ فارمیٹ اتنا اہم نہیں تھا جتنا کہ عزم اہم ہے۔ ایک بار جب اسرائیلی عزم اور امریکی ضمانتیں مل جائیں تو ہم چیزوں کو ترتیب دینا شروع کر سکتے ہیں۔
-
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک … نئے تصادم کے خدشات بڑھ گئے
لبنان نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی تیاری ایک بار پھر ظاہر کی تاکہ اس کی ...
مشرق وسطی -
جنوبی لبنان میں پھر اسرائیلی حملہ، دو لبنانی مارے گئے
اسرائیلی ڈرون نے ضلع مرجعیون میں پک اپ ٹرک کو 3 میزائلوں سے نشانہ بنایا
مشرق وسطی -
لبنانی فوج کی حزب اللہ کے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی ناکافی ہے: اسرائیل
اسرائیلی رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے حالیہ ہفتوں میں سینکڑوں میزائل لبنان منتقل کر ...
مشرق وسطی